خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 560 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 560

خطبات ناصر جلد ہفتم پھر فرمایا:۔ط خطبه جمعه ۲۹/ دسمبر ۱۹۷۸ء إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ مَاتُوا وَهُمْ كُفَارُ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَ لَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَبِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَصِرِينَ (آل عمران : ۹۲) جن لوگوں نے اسلام کا انکار کیا اور کفر کی راہوں کو اختیار کیا اور کفر کی حالت میں ان پر موت وارد ہوگئی یعنی جولوگ منکر ہو گئے اور کفر ہی کی حالت میں وہ مر بھی گئے ان میں سے کسی سے زمین بھر کے سونا بھی جسے وہ فدیہ کے طور پر پیش کریں ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، ایسے لوگوں کے لئے اخروی زندگی میں درد ناک عذاب مقدر ہے اور وہاں ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔پس ان آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ تو بہ اس دنیوی زندگی کی تو بہ ہے جو خدا تعالیٰ کے رحم کے نتیجہ میں قبول ہوتی ہے۔وہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ جس وقت موت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی تو اس وقت کہہ دیا آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بنوا اسراءيل (یونس : ۹۱) یہ تو ایمان نہیں اور نہ یہ تو بہ ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے اور کفر کی حالت میں ان پر موت وارد ہوگئی خاتمہ بالخیر نہیں ہوا۔وہ کتنا ہی بڑا فدیہ دینا چاہیں تب بھی قبول نہیں ہوگا۔وہ فدیہ نہیں دے سکتے۔خدا تعالیٰ نے اس کی اہمیت بتانے کے لئے فرمایا ہے اگر یہ ساری زمین سونے کی ہوتی اور وہ اس کے مالک بھی ہوتے اور انہیں تو فیق بھی ہوتی کہ وہ فدیہ کے طور پر ساری زمین کا سونا دینے کے لئے تیار ہو جاتے تب بھی وہ جہنم کے عذاب سے بچ نہ سکتے۔ان آیات سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ اسلام نے آزادی ضمیر اور آزادی عقیدہ کی ضمانت دی ہے اور بڑے واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے ہر فرد واحد خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہا کہ تم یہ اعلان کر دو! میں وکیل نہیں ہوں ، تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ایمان کی ذمہ داری زید نے بکر کی نہیں اٹھانی بلکہ زید نے اپنے ایمان کی ذمہ داری اٹھانی ہے۔بکر نے اپنے ایمان کی ذمہ داری اٹھانی ہے۔اسی طرح نہ کسی شخص کو مجبور کر کے مسلمان بنایا جا سکتا ہے اور نہ کسی کو جبراً اسلام سے خارج کیا جاسکتا ہے، نہ