خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 546
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۴۶ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ اور اس کے بعد عملی زندگی میں چاہے ہم شیطان کا رنگ ہی چڑھا لیں لیکن ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت مل جائے گی۔یہ مسئلہ اسلام نے نہیں بیان کیا ہماری جماعت کو اسے سمجھنا چاہیے۔یہ صحیح ہے کہ جس مقام ارفع تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت میں سے لاکھوں کروڑوں امتیوں کو لے گئے اس کے دروازے آج بھی کھلے ہیں اور قیامت تک کھلے رہیں گے۔اور جو شخص محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے گا، آپ کے اُسوہ کو اپنائے گا وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے گا۔یہ درست ہے اور اس میں ایک رتی بھی شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن جو شخص صرف یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہو گیا میں احمدی ہو گیا اور اس کے بعد مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں وہ غلط کہتا ہے کیونکہ لفظ شفاعت اپنے لغوی اور اصطلاحی ہر دو معنی میں ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ محمد کا نور تمہارے چہروں پر نظر آنا چاہیے تب خدا تعالیٰ تم سے پیار کرے گا ورنہ نہیں کرے گا۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے اور ہمیں ایسی توفیق عطا کرے کہ ہمارے چہروں پر بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی ایک جھلک، خواہ وہ ملکی سی جھلک ہی کیوں نہ ہو اس کی نگاہیں دیکھیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری کی جھلک ہمارے چہروں پر ہمارے خدا کو نظر نہ آئے اور اس طرح پر اس کے پیار کو ہم حاصل کرنے والے ہوں۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )