خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 528
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲۸ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء ایک کئی میل کا جزیرہ تھا یعنی دریا پھٹ کر اس کے دونوں طرف سے جارہا تھا اور درمیان میں جزیرہ تھا۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ خاموش جگہ ہے یہاں چلتے ہیں۔وہ وہاں چلے گئے اور ان کے ساتھ ان کے چالیس، پچاس مرید بھی تھے جو کہ اس علاقہ میں تبلیغ کے دوران تیار ہوئے تھے۔انہوں نے وہاں جا کر گھاس پھونس کی جھونپڑیاں بنالیں اور مسجد بنالی۔وہاں چھوٹی سی آبادی ہوگئی اور وہ دن رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہے۔جس وقت انہوں نے وہاں اڈہ بنالیا تو وہ قبائل جوان کی آواز بھی سننے کے لئے تیار نہیں تھے ان کے نمائندے اس جزیرے میں آنے شروع ہو گئے اور وہ وہاں ٹھہرے کوئی چھ مہینے ٹھہرے، کوئی سال، کوئی ڈیڑھ سال اور انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم ان سے سیکھی اور عملاً بھی سیکھا کہ عبادات کیسے کرنی ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ ۱۹۶۷ء میں جب کوپن ہیگن کی مسجد کا افتتاح ہوا تو تین سو کے قریب عیسائی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے تھے۔ان کو تو نہیں پتا تھا کہ رکوع کیسے کرنا ہے۔جب ہم رکوع میں جاتے تھے تو وہ ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے کہ کس طرح کرنا ہے۔جب سجدے میں گئے تو ادھر ادھر دیکھ لیا کہ کیسے سجدہ کرنا ہے اس طرح انہوں نے نماز پڑھی۔پس ایک تو نماز کا حکم ہے اور ایک نماز پڑھنے کا طریق ہے اور سنت نبوی ہے کہ کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔غرض انہوں نے عملاً بھی سیکھا اور پھر واپس جا کر اپنے قبائل میں تبلیغ کی اور وہ قبائل مسلمان ہو گئے یعنی جزیرے کے اندر ایک مرکز بن گیا ایک مدرسہ قائم ہو گیا۔وہاں ان کو دعاؤں کا موقع بھی مل گیا اور دعاؤں کے نتیجے میں ان کی خواہشات کو خدا تعالیٰ نے پورا کیا اور وہ قبائل جن میں خود ان کا اپنا وجود پہنچ کر نا کام ہوا تھا وہاں ان کے شاگرد پہنچے انہی قبائل سے تعلق رکھنے والے ) اور وہاں اسلام پھیلا اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔غرض باہر سے آنے والے یہاں صرف تقاریر نہیں سنتے یا علماء سے ہی گفتگو نہیں کرتے بلکہ وہ بڑی تیز نگاہیں لے کر آتے ہیں اور آپ کا مطالعہ کرتے ہیں۔اس پر بھی آپ کو پورا اتر نا چاہیے اور آپ کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ آپ صحیح اسلام کا نمونہ ان کے سامنے پیش کرنے