خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 529

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲۹ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء والے ہوں۔ہمیشہ ہی دنیا کے سامنے پیش کرنے والے ہوں لیکن خصوصاً اجتماعات میں خواہ وہ ربوہ میں ہوں یا باہر ہوں۔باہر سے آنے والے آنکھیں کھلی رکھ کر آتے ہیں آنکھیں بند کر کے نہیں آتے۔وہ اس لئے یہاں آتے ہیں کہ وہ بینا ہیں ، دیکھنے کی قوت ، قوت بینائی اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اور وہ اسے استعمال کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے سامنے اچھا نمونہ پیش کر سکیں۔میں نے کہا تھا کہ جس حد تک ممکن ہو اپنے مکانوں کا ایک حصہ دیں خواہ وہ چھوٹا سا کمرہ ہی کیوں نہ ہو۔اگر بڑا کمرہ دے سکتے ہیں تو بڑا دیں لیکن اگر بڑا نہیں دے سکتے تو چھوٹا کمرہ ہی دے دیں۔میں جب افسر جلسہ سالانہ تھا تو ایک دفعہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افتتاحی تقریر سن کر باہر نکلا۔ان دنوں جامعہ نصرت کے میدان میں ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا۔مجھے وقت مل گیا میں نے افتتاحی تقریر سنی اور جب تقریر اور دعا کے بعد میں باہر نکلا تو مجھے کراچی کے ایک دوست سڑک کی طرف سے آتے ہوئے ملے۔انہوں نے ہاتھ میں سوٹ کیس پکڑا ہوا تھا اور بیوی ان کے ساتھ تھی۔میری نگاہ ان پر پڑی تو میں سمجھ گیا کہ ان کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں ہے پتا لینا چاہیے۔میں نے کہا کہ آپ کا کہیں انتظام ہے؟ کوئی دوست کوئی واقف جس کو آپ نے لکھا ہو کہ میں ان کے ہاں ٹھہر رہا ہوں۔کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا کہ آپ نے انتظام جلسہ کو لکھا ہے کہ آپ کا انتظام کیا جائے؟ کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا کہ کہاں ٹھہریں گے؟ کچھ پتا نہیں۔میں نے کہا اچھا پھر میں انتظام کرتا ہوں۔میرا تو فرض تھا ہمارے بہنوں بھائیوں کے گھروں کے پاس ہی وہ مجھے ملے تھے۔میں ایک گھر میں گیا اور میں نے کہا کہ مجھے کوئی کمرہ دو۔اس طرح ایک مہمان آ گیا ہے اور وہ لکھ پتی ہے۔ایک ایک وقت میں وہ شخص پچاس پچاس ہزار روپے چندہ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہیں ، ہمارے تو سارے کمروں میں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔پھر دوسرے گھر میں گیا انہوں نے بھی کہا کہ ہمارے سارے کمروں میں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔ایک اور گھر میں گیا تو میری نظر ایک چھوٹے سے کمرے پر پڑی جس کو ہم کو لکی“ کہتے ہیں۔