خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 523

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۲۳ خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء کوشش کرنی چاہیے اور ہر وقت آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ہوسکتا ہے کہ جن کے متعلق یہ رپورٹ ہو کہ انہوں نے سستی دکھائی ان کو اس وقت تک کام کرنے کے لئے کوئی جائز عذر ہو لیکن کام کو ہمیشہ نظر انداز کرنے کے لئے میرے ذہن میں کوئی جائز عذر نہیں آتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک ہفتہ ایک جائز عذر ہو گیا۔دو ہفتے کوئی جائز عذر ہو گیا لیکن ہمیشہ ہی عذ ی ہی عذر ہو اور وہ جائز ہوا سے میری عقل نہیں مانتی اور میرا خیال ہے کہ کسی کی عقل بھی نہیں مانتی۔پس ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ اس وقت تک پیچھے رہنے والوں کے جو عذر تھے وہ جائز تھے لیکن یہ ہم تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ اس مہینے کی ۲۲ / تاریخ تک جو مزید کام کرنے کے اوقات ہیں ان میں بھی جائز عذر ان کو میسر آتے رہیں گے۔ان کو تو زیادہ زور لگا کر، زیادہ وقت دے کر ، زیادہ توجہ سے، زیادہ ہمت کے ساتھ اور زیادہ دعاؤں کے ساتھ جو محلے آگے نکل چکے ہیں ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بہت سی جگہ گڑھوں کو پر کر دیا گیا ہے اور سڑکوں کو اور پگڈنڈیوں اور چھوٹے رستوں کو بھی ہموار کر دیا گیا ہے لیکن منتظمین کو کوشش کرنی چاہیے کہ سارے ہی راستوں کو ایسا ہموار کر دیا جائے کہ تدبیر کے لحاظ سے کسی کو کوئی دکھ پہنچنے کا اندیشہ باقی نہ رہے اور آپ بھی دعا کرتے ہیں اور آپ کو کرنی چاہیے اور میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت اور امان میں رکھے اور جسمانی تکلیفوں سے بھی محفوظ رکھے۔دوسری بات جو میں آج کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ منتظمین جلسہ کا خیال ہے کہ اہل ربوہ ان کو مناسب اور پوری تعداد میں رضا کار نہیں دیں گے اور میرا یہ خیال ہے کہ اہل ربوہ منتظمین جلسہ کو پوری تعداد میں رضا کا ر دے دیں گے۔یہ ہمارا اختلاف رائے ہو گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کا عمل مجھے جھوٹا بناتا ہے یا ان کو غلط قرار دیتا ہے اس لئے آج میں اطفال اور خدام کو خصوصاً اور انصار کوعموماً مخاطب کرتا ہوں۔پچھلی دفعہ جب میں نے کہا تھا کہ رضا کار دوتو ربوہ میرا مخاطب تھا یعنی ربوہ کے سارے مکین لیکن آج میں علیحدہ علیحدہ تنظیموں کو مخاطب کرتا ہوں کہ جتنے رضا کار ہمیں چاہئیں اتنے مل جانے چاہئیں۔ایک زمانہ میری ہوش میں ایسا گزرا ہے اور مجھے وہ جلسے یاد