خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 515
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۱۵ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۸ء احتیاج نہیں۔اس کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بندہ کو پیدا کیا تھا بندہ بننے کے لئے خدا تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے یہ خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے۔اس نے اپنے کلام میں فرمایا کہ یہ میرے حق ہیں تم ان کو ادا کیا کرو۔دراصل یہ اس کے حقوق نہیں یہ تو ہمارے ہی حقوق بنتے ہیں تا کہ ہم اپنے مقصدِ حیات کو حاصل کر سکیں یعنی جو مقصود ہے وہ انسان کی خود اپنی ہی ذات سے تعلق رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا چونکہ تمہاری ذات نے اس مقصد کے حصول کے بعد میرے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہے اس لئے میں اسے اپنا حق قرار دے دیتا ہوں۔غرض پہلی بات دوزخیوں نے جواب میں یہ کہی کہ جب ان سے پوچھا گیا تمہیں کیا چیز جہنم کی طرف لے گئی تو جواب میں انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا بندہ بننے کے لئے اور اپنے قُرب کی راہوں کو اختیار کرنے کے لئے اور اپنی صفات کا مظہر بننے کے لئے انہیں پیدا کیا تھا اور انتہائی مہربانی سے اسے خدا تعالیٰ نے اپنا حق قرار دیا تھا حالانکہ فائدہ سارے کا سارا اس کے بندہ کو ہے۔خدا تعالیٰ کو تو کوئی فائدہ بندہ نہیں پہنچا سکتا۔جو کچھ فائدہ پہنچتا ہے وہ خدا سے بندہ کو پہنچتا ہے لیکن اس قدر پیار کرنے والے خدا کی انہوں نے پرواہ نہیں کی اور قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کیا اور اس کا عبد بننے کی بجائے غیر اللہ کا عبد بننے کی کوشش کی اور آج وہ اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں اور انہیں جہنم کی سزا مل رہی ہے اور اصل جہنم تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا غضب اور اس کے قہر کی آگ کسی بدقسمت انسان پر بھڑ کے۔اللہ تعالیٰ اس سے ہر ایک آدمی کو محفوظ رکھے۔دوزخی دوسری بات یہ کہیں گے کہ جو دوسرے بندوں کے حقوق تھے وہ انہوں نے ادا نہیں کئے۔مسکین کے معنے لغت عربی میں ایسے شخص کے بھی ہیں جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو بالکل کنگال ہو اور مسکین کے معنے ایسے شخص کے بھی ہوتے ہیں جس کے پاس کچھ تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ جو اس کے اہل وعیال کے لئے کافی ہو سکے اور مسکین کے معنی ایسے شخص کے بھی ہوتے ہیں جسے دنیا ذلیل اور حقیر سمجھ رہی ہو۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا ہے کہ قرآن کریم کا نزول انسانی عزت اور شرف کے قیام کے لئے ہے تو دوزخیوں نے جواب میں کہا کہ قرآن کریم اس لئے آیا تھا