خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 498 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 498

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۹۸ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء اور پاکیزگی کے لحاظ سے انسان پر جو مُردنی چھا جاتی ہے اور وہ مردہ ہو جاتا ہے آپ کی زندگی اس مردنی کو زندگی اور طاقت کے اندر تبدیل کرنے والی ہے اور جہاں تک انسان کے اخلاق اور انسان کے معاشرہ اور اس کے تمدن اور اس کی اقتصادیات اور اس کے علوم اور اس کی زندگی کے ہر شعبہ کا تعلق ہے۔اگر انسان نے فلاح و بہبود کی زندگی گزارنی ہو تو حکم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی چلتا ہے۔جو تعلیم آپ لے کر آئے اس سے پرے ہٹ کر انسان کو نہ کوئی سکھ اور چین نصیب ہوا نہ ہوسکتا ہے اس پر میں اپنے بیرونِ ملک کے دوروں میں بھی روشنی ڈال چکا ہوں عیسائیوں کو میں بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھاتا تھا کہ تمہاری عقلیں اور تمہارے مذاہب تمہارے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔اگر تم اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہو تو وہ جس کو خدا نے صفتِ عزیز کا مظہر اتم بنایا ہے اس کے سائے تلے آ جاؤ۔تمہاری ساری تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔ویسے ان کو سمجھانے کے لئے میں الفاظ ان کی عقل کے مطابق ہی استعمال کرتا ہوں اور آپ احمدیوں کی عقل ماشاء اللہ بہت بڑی ہے۔آپ کو سمجھانے کے لئے آپ کی سمجھ کے مطابق الفاظ استعمال کرتا ہوں۔جب میں ان سے بات کرتا ہوں تو وہ میری بات سمجھ جاتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ جب میں آپ سے بات کرتا ہوں تو آپ میری بات سمجھ جاتے ہیں۔پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو بغیر حکمت کے ہو۔ہر پہلو میں ہمیں حکمت نظر آتی ہے ورنہ اگر یہ حکمت نہ ہوتی ، اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی صفت حکیم کے مظہر اتم نہ ہوتے تو آپ امت محمدیہ کو جس کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے کبھی سنبھال ہی نہ سکتے۔یہ فقرہ کہنا آسان ہے لیکن اس کا سمجھنا مشکل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ قیامت تک فیض رساں ہے اور اپنے اثر کے لحاظ سے اور اپنے فیوض کے لحاظ سے اس کا زمانہ قیامت تک ہے۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ساری ہی صفات کے مظہر اتم ہیں لیکن یہاں قرآن کریم میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس میں چار بنیادی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔آپ ان چاروں صفات کے بھی مظہر اتم ہیں۔آپ کے وجود کی ہر حرکت اور ہر سکون نے یہ ثابت کیا کہ خدا تعالیٰ بڑا بزرگ، ہر عیب سے پاک، ہر نقص سے پاک اور تمام اسمائے حسنہ سے متصف ہے اور تمام تعریفیں اسی کی