خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 497
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۹۷ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء کو آزادی دی ہے وہ بھی اسی کے حکم اور منشا سے ہے ) اور یہ کہ اس کے احکام پر حکمت ہیں۔یہاں پہنچ کر خدا نے عجیب اور شاندار جوڑ ملا دیا۔اس کا ہر حکم اپنے اندر حکمتیں رکھتا ہے تو اس نے انسان کو جو آزادی دی اس میں بھی کوئی حکمت ہونی چاہیے۔فرما یا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ کہ اگر انسان کو آزاد نہ بنایا جاتا اور اس کی حالت ویسی ہی ہوتی جیسی کہ ایک فاختہ کی ہے یا ایک باز کی ہے یا ایک درخت کی ہے یا ایک ہیرے کی ہے تو پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت نہیں تھی۔پس خدا تعالیٰ نے جو یہ سارا کارخانہ بنایا اور اعلان کیا کہ یہ اس غرض سے بنایا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرے اس میں حکمت یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود پیدا کرنا مقصود تھا۔پس هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ میں بتایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی عظمت و شان اور اپنی بادشاہت اور اپنی قدوسیت کا اور اپنے عزیز اور حکیم ہونے کا یہ نشان ظاہر کیا کہ ایک اقی قوم جو پڑھ نہیں سکتے تھے اور دنیوی لحاظ سے بالکل جاہل تھے ان کے اندر ایک ایسا وجود پیدا کر دیا کہ جس کی قیمت دنیا جہان بھی نہیں ہے وہ سب سے زیادہ قیمتی وجود ہے۔اس دوسری آیت میں پہلی آیت کے ساتھ ساتھ چلنے والے دو اور سلسلوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور دوسرے وہ کتاب جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے یعنی قرآن کریم۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس طرح کہ انسانوں میں سے صرف آپ ہی ہیں جو صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم ہیں۔چنانچہ کوئی انسان ایسا نہیں جو خدا تعالیٰ کی ملک ہونے کی صفت کا اس شان کے ساتھ مظہر بنا ہو جیسے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنے۔اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی صفت ، ملک ہونے کی صفت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اور آپ کی ذات میں اتم طور پر ظاہر ہوئی اور چمکی۔پھر آپ کے وجود میں پاکیزگی کی بھی انتہا نہیں یعنی قدوس ہونے کی صفت کے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم ہیں اور آپ کی ساری زندگی پاک اور پاک کرنے والی ہے اور جب میں ساری زندگی کہتا ہوں تو میری مراد ہر دوزندگیوں سے ہے یعنی جسمانی زندگی بھی اور روحانی زندگی بھی جو کہ قیامت تک ممتد ہے