خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۹۰ خطبه جمعه ۳/نومبر ۱۹۷۸ء کے معیار کے لحاظ سے کہیں زیادہ وسیع عمارتیں ربوہ میں تعلیمی اداروں کے لئے بنائی تھیں اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہماری جلسہ سالانہ کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے والی ہیں۔اس کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ معاوضہ دیئے بغیر نو دس کروڑ روپے کی جائیداد حکومت نے آرام سے اپنے قبضہ میں لے لی۔یہ بڑی رقم ہے اور خصوصاً ایک غریب جماعت کے لئے۔اور اتنی بڑی کی جائیداد لے لی اور جب جلسہ کا وقت آیا اور ہم نے کہا کہ آٹھ دس دن کے لئے تو ہمیں استعمال کرنے دو تو کہہ دیا کہ نہیں یہ تو قومیائی گئی ہیں۔تعلیمی اداروں میں گندم سٹور ہو کر وہاں ضائع ہو جاتی ہے اور اس میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے اس کے لئے تو تعلیمی اداروں کے کمرے استعمال ہو سکتے ہیں اور اگر نہیں ہو سکتے تو ایک انسان کے آرام کے لئے وہ کمرے استعمال نہیں ہو سکتے اور انسان بھی وہ جس کے پیسوں سے وہ عمارتیں بنی تھیں اور جس نے بڑی خوشی کے ساتھ وہ قوم کے سپر د کر دیں۔قوم نے ایک منصوبہ بنایا تھا ہم نے کہا ٹھیک ہے تم انتظام چلاؤ۔یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ قومیائے جانے کے بعد تعلیم کا معیار بلند ہوا ہے یا نیچے گرا ہے اس وقت یہ میرا مضمون نہیں ہے اور نہ میں اس بحث میں پڑنا چاہتا ہوں لیکن جنہوں نے اتنی بڑی جائیداد بنائی اور تعلیم پر اس قدر خرچ کیا ان کا کچھ خیال نہیں رکھا گیا۔جماعت احمدیہ جیسی غریب جماعت نے سات سے دس کروڑ روپے کے قریب صرف ربوہ کے اندر تعلیم پر خرچ کیا اور جماعت احمدیہ کے بچوں کی تعلیم پر خرچ نہیں کیا بلکہ تعلیم پر خرچ کیا۔میں پرنسپل رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کیونکہ میں ہی ذمہ دار تھا کہ پچاس فیصد سے زیادہ میں ان بچوں کو داخل کرتا تھا جن کا عقیدۂ جماعت احمد یہ سے تعلق نہیں ہوتا تھا اور تعلیمی لحاظ سے پچاس فیصد سے زیادہ ان بچوں کو رعایت دیتا تھا جن کا تعلق جماعت سے نہیں تھا ورنہ وہ پڑھ ہی نہیں سکتے تھے بیچارے غریبوں کے بچے جن کو ہمارے علاوہ اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔غرض جماعت نے قوم کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے اور تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کے لئے اس قدر قربانی کی لیکن جب تعلیمی ادارے قومیائے گئے تو ہم بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ ہو گیا۔باقی جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے مہمانوں کی تعداد تو ہر سال بڑھتی ہے باوجود اس کے