خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 478

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۷۸ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء خدا نے کرنا ہے اپنے زور پر تو کسی نے نہ جنت میں جانا ہے اور نہ کسی نے جنت میں جانے سے کسی دوسرے کو روکنا ہے یا پھر بعض اصول ہیں جو قرآن کریم نے بتائے ہیں مثلاً یہ کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خدا تعالیٰ بتا دیتا تھا کہ یہ منافق ہے۔بعض لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ بتادیتا تھا کہ یہ ہیں تو منافق مگر ابھی کسی کو بتاؤ نہیں۔کسی کے متعلق خدا تعالی بتا دیتا تھا کہ یہ جنتی ہے اس کا انجام بخیر ہو گا لیکن اسے بتاؤ نہیں ، اس کو چلنے دو اسی طرح۔پس یہ تو خدا تعالیٰ کی شان ہے بندوں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔دو باتیں خاص طور پر ایسی ہیں جن کی طرف میں اس وقت احباب جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ ہے کہ قُلْ اَتُعَلَّمُونَ اللهَ بِدِینِکھ کی رو سے کوئی شخص اپنے دین یا اپنی بزرگی اور طہارت کے متعلق خدا تعالیٰ سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میں ایسا ہوں نالائقی کے متعلق تو لوگ کہا ہی نہیں کرتے بزرگی کے متعلق بھی کوئی نہیں کہہ سکتا۔ہم نے تو خدا تعالیٰ کو نہیں بتانا کہ ہم تیرے پیارے ہیں۔پیار تو خدا نے دینا ہے اور ہم اسے بتائیں کہ ہم تیرے پیارے ہیں اور کوئی شخص دوسرے کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کسی پیارے یا ولی کو الہاماً کچھ بتایا ہو اور یہ اس وقت میرے مضمون کا حصہ نہیں۔دوسرے یہ کہ جماعت احمدیہ کے لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا کے مقام کو حاصل کرے۔دوستوں کے دل میں ایمان کے بارہ میں کوئی شک اور شبہ باقی نہ رہے اور دلیری کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کریں اور اس بات کا برملا اقرار کریں کہ وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں۔میں تو جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس پرایمان لاتا ہوں اور اس خطبے میں بھی اعلان کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہم اتنی قسمیں کھانے کے لئے تیار ہیں جتنی خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کی تجلیات ہیں اور اگر دوست یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام پر ایمان لاتے ہیں تو اس کا دلیری کے ساتھ اقرار کریں اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہیں ، خدا کے شریک بھی ہیں اور خدائے واحد و یگانہ پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اپنے اسلام کا بالکل اقرار نہ کریں ، جھوٹ نہ بولیں ، نہ لوگوں کے سامنے جھوٹ بولیں اور نہ خدا کے سامنے۔