خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 473
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۷۳ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء کے نتیجہ میں میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کہا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے تمہاری عملی زندگی میں اُسوۂ حسنہ ہیں اس اُسوہ کے مطابق انسان اپنی زندگی گزارنے کا اقرار کرتا ہے اور پھر وہ عملاً اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ایمان کا دوسرا حصّہ دلی یقین سے تعلق رکھتا ہے یعنی دل میں ایمان کا پختگی کے ساتھ گڑا ہوا ہونا۔شیطان انسانی دل میں بھی وسوسہ ڈالتا ہے وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے اور ایمان کی جڑوں کو جو انسان کے دل اور دماغ میں ہوتی ہیں اُن کو ہلا دے۔عمل میں کمزوری پیدا ہو جائے اور دل میں شبہات پیدا ہو جا ئیں۔اس میں وہ بعض دفعہ کامیاب بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ ارتداد کے وقت میں ہوا۔یہ ایک ایسی مثال ہے جو ایمان کے تینوں حصوں پر حاوی ہے۔پس ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہدایت کے حصول کے بعد انسان دین کے میدان میں جتنا کچھ حاصل کرتا ہے اس کے مطابق جب وہ عمل کرتا ہے تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ٣) کی رو سے گویا وہ تقویٰ کی راہوں کو سمجھتا اور ان پر کار بند ہوتا ہے۔قرآن کریم اس کے لئے ہدایت اور تقویٰ میں اور زیادہ ترقی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔انسان کے دل پر جب شیطان کا یہ وار ہوتا ہے تو انسان پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی حقیر کوششوں کو قبول کرتا ہے اور اسے بصیرت عطا کرتا ہے۔اسے عزم دیتا ہے۔اس کو ثبات قدم عطا کرتا ہے۔ایمان اس کے دل میں اتنی پختگی کے ساتھ گڑ جاتا ہے کہ شیطان کے حملے ناکام ہو جاتے ہیں۔ایمان کا تیسرا حصہ انسانی عمل سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى الى (الانعام : ۵۱) کے مطابق جو کام کر کے دکھا دیا ہے تم اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اس کے اوپر بھی شیطان حملہ کرتا ہے۔کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھلا دیتا ہے۔کبھی انسان کے عمل میں کمزوری پیدا کر دیتا