خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۷۲ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء پھر کوئی شک وشبہ ان کے دل میں باقی نہیں رہتا۔خدا تعالیٰ انہیں ہر معاملہ میں بصیرت عطا کرتا ہے۔جس وقت انسان ایمان لاتا ہے تو قرآن کریم ہی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ شیطان اپنی سی کوشش شروع کر دیتا ہے بہکانے اور وسو سے پیدا کرنے کی۔شیطان کے یہ وساوس اور اس کی یہ کوشش ایمان کی ہر سہ جہات سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ ایمان کے معنے کئے گئے ہیں زبان سے اقرار کرنا۔دل سے یقین کرنا اور عمل سے یہ ثابت کرنا کہ جو دل میں بات ہے وہ پکی اور یقینی ہے۔چنانچہ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی زبان سے جو اقرار کرتا ہے اس میں روکیں ڈالے۔بہت سے لوگوں کے لئے وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ ایمان ہوتے ہوئے بھی ان کے لئے ایمان کا اقرار کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں ٹھو کرلگتی ہے اور وہ اسلام لانے کے بعد اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع زمانہ میں ہوا جب کہ عرب بڑی کثرت کے ساتھ ارتداد اختیار کر گئے تھے۔انہوں نے زبان سے بھی اسلام کا انکار کیا اور ان کے دلوں میں بھی ایمان باقی نہ رہا۔پس ہمیں قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اپنی کوشش میں یہ وار بھی کرتا ہے کہ بعض دفعہ جب آدمی مسلمان ہوتا ہے اور اقرار کرتا ہے میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اس اللہ پر ایمان لاتا ہے جس کی ذات اور صفات کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کیا ہے تو شیطان انسان کے دل میں شبہات پیدا کرتا ہے تا کہ اس سے ایمانی کمزوری سرزد ہو۔وَ رَسُولِہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ اقرار بھی کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل ترین اور اکمل ترین مقام جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے حسن اعظم کی حیثیت سے، انسان کامل کی حیثیت سے ، ایک کامل اور مکمل اور قیامت تک قائم رہنے والی شریعت لانے والے نبی کی حیثیت سے ، اس مقام کو میں پہچانتا ہوں۔آپ بنی نوع انسان کے محسن اعظم ہیں۔میں آپ کے احسانوں کو پہچانتا ہوں اور ان کی معرفت رکھتا ہوں۔آپ کی ذات وصفات اور آپ کے حسن و احسان