خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 443 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 443

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴۳ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء وہ ہے جو میں نے بعد میں یورپ کا دورہ کیا اور اسلام کی تعلیم ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔یہ جو کا نفرنس ہوئی اس میں یہ انتظام بھی کیا گیا تھا کہ بولنے والی 16mm Movie لی جائے۔بعد میں اسے Super 8mm بنایا جو یہاں بھی دکھائی جاسکتی ہے۔وہ تیار ہوگئی ہے اور یہاں پہنچ جائے گی وہاں تو میں نے دیکھی ہے اچھی خاصی ہے آپ بھی اسے دیکھ لیں گے۔۴/۳/۲ /جون کو یہ کا نفرنس تھی اور اس سے پہلے انگلستان کے اخبارات نے بھی اور یورپ کے بعض اخبارات نے بھی بہت کچھ لکھا۔پھر جلسہ سالانہ کے موقع پر یہاں جو صحافی آئے ہوئے تھے انہوں نے ڈیلی ٹیلیگراف میں پانچ چھ صفحے کا ایک نوٹ دیا اور یہ اخبار دس لاکھ سے بھی زیادہ تعداد میں چھپتا ہے مجھے صحیح یاد نہیں ممکن ہے کہ پندرہ یا بیس لاکھ چھپتا ہولیکن بہر حال دس لاکھ سے زیادہ چھپتا ہے جیسا کہ ان کی عادت ہے انہوں نے اس میں کچھ اپنی بھی چلائی لیکن ہماری بھی بہت سی باتیں وہ لکھ گئے ہیں۔غرض اس رنگ کا پرا پیگینڈا اور اشاعت وہاں ہوئی کہ انگلستان کے چرچ کو کچھ پریشانی سی لاحق ہو گئی۔چنانچہ انہوں نے کانفرنس سے قریباً دس دن پہلے اپنی طرف سے ایک Release ( ریلیز ) ایک خبر اخبارات کو بھجوائی اور اس کے نیچے یہ نوٹ دیا کہ اسے فلاں تاریخ سے پہلے شائع نہ کیا جائے۔غالباً ۳۰ رمئی یا یکم جون کی تاریخ تھی اور وہ ریلیز ہمارے مشن کو بھی بھیجوا دی۔میں نے اس کا جواب تیار کیا۔کا نفرنس میں میں نے بھی ایک چھوٹا سا مضمون پڑھا تھا۔اپنے مضمون کے بعد میں نے ان کی ریلیز پڑھ کر سنوا دی اور پھر اس کا جواب خود میں نے پڑھ کر سنایا۔ایک تو ان کا خط تھا اور اس کے نیچے ان کی ریلیز تھی۔وہ دو علیحدہ علیحدہ کاغذوں پر تھے اور یہی دستور ہے۔خط میں لکھا تھا کہ ہم Open Dialogue کرنا چاہتے ہیں یعنی کھلی بات چیت ہو۔ہر ایک کو پتا ہو کہ کیا تبادلۂ خیال ہوا ہے اور اسی خط کے اندر کے حصے میں تھا کہ Unpublicised Dialogue ہونی چاہیے یعنی ایسا تبادلۂ خیال جس کی اشاعت نہ ہو۔Open اور Unpublicised تو ویسے ہی متضاد چیز میں ہوگئیں۔میں نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ یہ تو ساری دنیا کے ساتھ تعلق رکھنے والا معاملہ ہے اس کی اشاعت ہونی چاہیے اور صرف انگلستان میں ہی کیوں۔میں نے دنیا کے مختلف حصوں کے نام لے کر کہا کہ