خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 442

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴۲ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء ہوئی۔نکالتے وقت تو زیادہ تکلیف نہیں ہوئی اور اگر تکلیف یا در دوغیرہ ہو بھی تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے ہمیں اس کی برداشت ہے لیکن اس کے بعد ساری رات خون آتارہا۔رات کے دس اور گیارہ بجے کے درمیان انہوں نے میرے دانت نکالے تھے پھر اس کے بعد مسوڑھوں میں ورم اور زخم کی تکلیف ہوگئی جو عارضی Denture (ڈینجر ) بنا تھا وہ ٹیکنیشن نے صحیح نہیں بنا یا تھا اس لئے کبھی دائیں طرف زخم ہو جاتا تھا کبھی بائیں طرف زخم ہو جا تا تھا۔رات دن یہ کیفیت رہی۔شروع میں دو دن تو میں کسی قسم کا کھانا بھی نہیں کھا سکا چائے یا دودھ کی ایک پیالی پیتا رہا۔پھر ہم نے سوچا کہ زیادہ لمبا عرصہ تو آدمی بھوکا نہیں رہ سکتا اس لئے کوئی اس قسم کا طبی پر ہیزی شور بہ ہونا چاہیے جس میں Proteins ( پروٹینز ) بھی شامل ہوں لیکن ہوشور بہ کیونکہ میں کچھ بھی چبانہیں سکتا تھا۔اس حد تک کہ اگر پکے ہوئے چاول بھی دانتوں کے نیچے آجائیں تو ان سے بھی مجھے درد ہوتی تھی اور وہ بھی میں نہیں چبا سکتا تھا۔اس کے بعد میرے وہاں سے روانہ ہونے سے پانچ چھ دن پہلے پیر والے دن ۲ / تاریخ کو انہوں نے میرے منہ میں دوسرا مستقل ڈینچر لگا یا ( یہاں کی تو ہر چیز ہی عارضی ہے لیکن اس کو مستقل کہہ دیتے ہیں ) چھ مہینے تک یہ ڈینجر رہے گا اس کے بعد پھر بدلنا پڑے گا۔منہ کو اس کی عادت پڑنے اور اس کو منہ کی عادت پڑنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔وہاں پر تین چار دفعہ جہاں جہاں خرابی تھی اور جس جگہ سے دباؤ ڈال رہا تھا اس جگہ سے اس کو ٹھیک کروایا تھا چنانچہ اب قریباً ٹھیک ہو گیا ہے لیکن ابھی یہ احساس باقی ہے کہ منہ میں ایک غیر چیز پڑی ہوئی ہے امید ہے کہ پانچ دس دن کے بعد انشاء اللہ وہ بھی دور ہو جائے گا۔بہر حال تکلیف آئی اور خدا کے فضل سے گزرگئی اور اللہ تعالیٰ نے رحم کیا کہ کوئی اور الجھن پیدا نہیں ہوئی اور نیا ڈیچر لے کر میں آپ کے پاس یہاں پہنچ گیا ہوں اور آج خطبہ دے رہا ہوں۔تاہم یہ تو معمولی چیز تھی دعا کریں، میں بھی آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ صحت والی اور کام کرنے والی زندگی عطا کرے۔میرے اس دورے کے دو حصے ہیں۔ایک کا تعلق تو اس کانفرنس کے ساتھ ہے جو وہاں ہوئی اور جس کا عنوان تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے اور دوسرا حصہ