خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 430 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 430

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۳۰ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء اس سورۃ البلد میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔تمہارے ساتھ جس کا تعلق ہے اس کو تو اونگھ بھی نہیں آتی۔نیند اور خراٹے لینے کا تو کوئی سوال بھی نہیں۔اس کی نگاہ سے تم کیسے بچ جاؤ گے اور تمہاری چالاکیاں اس کے سامنے کیسے چلیں گی؟ اور جیسا کہ میں اب بتا رہا ہوں ، محنت میں مادی تدابیر ساری شامل ہیں اور دعا شامل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے جس کا میں اب حوالہ دے رہا ہوں کہ تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ وہ اسی " وو في كبد “ کی تفسیر ہے اور دعا کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ تب تمہیں بہترین بدلہ ملے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض مختصر اور بعض بہت سی لمبی احادیث ہیں جن میں اس بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔بعض لوگ آہستہ آہستہ ظاہر کی طرف جھک جاتے ہیں جو بڑا آسان کام ہے اور جو باطن ہے اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور جس کا تعلق انسان کی اپنی نیک نیتی کے ساتھ ہے اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت کے ساتھ ہے اور جس کا تعلق انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہے اُس کو وہ بھول جاتے ہیں۔تو بات یہی سچ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا اعلان بھی ہے۔خدا تعالیٰ کا ئنات کا مالک ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں تجربہ بھی یہی کیا ہے۔ہمارا مشاہدہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ہی سچی ہوتی ہیں۔باقی یہ دنیا تو آدھا سچ بولتی ہے اور آدھا جھوٹ بولتی ہے۔جب تک کوئی شخص نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ انتہائی کوشش نہ کرے خدا تعالیٰ کے راستے میں اور یہ کوشش محض تدبیر سے نہ ہو بلکہ دعائیں بھی اسی طرح اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوں جب تک یہ حالت نہ ہو اس وقت تک اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق جو بہترین بدلہ کسی کومل سکتا ہے وہ اسے نہیں مل سکتا۔اگر کہیں یہ خامی ہوگی تو کچھ مل جائے گا۔خدا تعالیٰ بڑا غفار بھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ہاں چالاکیاں نہیں چلا کرتیں۔اب میں اس تمہید کے بعد کچھ ذمہ داریوں کی طرف آتا ہوں لیکن آپ ان باتوں کو ذہن میں رکھیں جو میں نے رہین محنت کے بارہ میں بتائی ہیں۔شروع خلافت میں فضل عمر فاؤنڈیشن کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔دراصل جو بلی فنڈ کا جو