خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 425

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۵ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء جاتا ہے تو وہ Groping ( ٹوہ لگانا) کر رہا ہوتا ہے کبھی ادھر کی سوچتا ہے کبھی ادھر کی کبھی اس سے مشورہ لیتا ہے کبھی اس سے اور کبھی کچھ کرتا ہے اور کبھی کچھ۔آپ نے فرمایا اس اندھیرے میں جو ہاتھ پاؤں مار رہا ہے خدا اُس کو کہتا ہے چلو میں نے دعا سمجھ لیا اور کام پورا کر دیتا ہے اور اسی لئے جو بڑے بڑے سائنسدان ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جہاں ہم اٹک جاتے ہیں وہاں کوئی غیبی طاقت جسے وہ پہچانتے نہیں یا جس کو پہچاننے سے وہ انکار کر رہے ہیں اُس غیبی طاقت کی طرف سے انہیں روشنی مل جاتی ہے۔پس بڑا پیار کرنے والا ہے ہمارا خدا۔یہ بڑا پیارا مہینہ ہے رمضان کا۔اس مہینے میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں لیکن دعا میں نیتوں میں اخلاص ہو فساد نہ ہو۔دنیا کی بھلائی کے لئے دعائیں کریں جس گند میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں اس میں سے بغیر دعا کے نہیں نکل سکتے۔اُن کی عقل مان لیتی ہے لیکن ان کی عادتیں اس وقت ماننے سے انکار کر رہی ہیں جو بات کہو مانتے چلے جاتے ہیں یعنی پادریوں سے بھی بات کرو تو ایک خاص وقت تک ہر دلیل مان لیتے ہیں اور جس وقت اس کا نتیجہ نکالتے ہیں تو پھر اُن کو ہوش آتا ہے کہ او ہو ہم سے کیا غلطی ہوگئی وہ دلائل مان گئے ہیں کہ جو اس طرف لے جارہے تھے کہ عیسائیت کی تعلیم درست نہیں ہے بہر حال اس وقت انسان کی بڑی قابل رحم حالت ہے۔میں نے ان کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تم اگر خدائے خالق و مالک کی طرف نہ لوٹے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔تو مجھے سے ایک صحافی پوچھنے لگے کہ آپ ہم سے پرامید ہیں یا نا امید ہیں۔میں نے کہا نا امید تو میں ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ دنیا کی اکثریت اسلام میں داخل ہو جائے گی مگر سوال صرف یہ ہے کہ تم چپیریں کھا کر اسلام کے اندر داخل ہوتے ہو یا خدا کے پیار سے داخل ہوتے ہو۔حضرت اقدس مسیح موعو علیہ السلام نے فرمایا ہے آخری ہزار سال تو بہر حال خدا اور اس کے مسیح کا ہے اور صلاح کا اور تقویٰ کا اور خیر کا اور برکت کا ہے۔آخر یہ اگلا ہزار سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور کسی نے زندہ تو رہنا نہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہو گئے