خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 426
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء تو اور کس نے زندہ رہنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اور نہ کسی کے دل میں ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہوئی نہ اپنے رہنے کی خواہش کبھی پیدا ہوسکتی ہے یعنی اگر کسی انسان کو زندہ رہنا چاہیے تھا تو وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے وہ وفات پاگئے تو اب ہم کیا سوچیں اور کیا خواہشات رکھیں لیکن ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی خلافت قائم رہے گی اور کوئی خلیفہ بھی ایسا نہیں آئے گا جو تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزا کرنے کی اجازت دے دے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر تو گو یا خلافت ختم ہوگئی۔تو یہ بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقامِ خلافت سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور خلافت سے جو برکات وابستہ ہیں اُن کو حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے۔جماعت احمدیہ کے بچے ہیں۔بچے تو بڑے پیارے ہوتے ہیں۔مجھے ویسے ہی بچوں سے بڑا پیار ہے۔جب امتحان آئیں تو وہ مجھے دعا کے بہت خط لکھتے ہیں کئی لکھتے ہیں کہ تیاری کوئی نہیں دعا کریں کامیاب ہو جائیں پھر اگر خدا تعالیٰ اُن کے حق میں دعاؤں کو قبول کر لے تو پھر بڑے پیار کے خط آتے ہیں کہ مجھے تو پاس ہونے کی امید نہ تھی ہمیں سیکنڈ ڈویژن مل گئی یا ہمیں سیکنڈ ڈویژن سے او پر نمبر لینے کی امید نہیں تھیں ہمیں فرسٹ ڈویژن کے نمبر مل گئے۔اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا ہے۔وہ تو بڑا دیا لو ہے اس کے خزانے تو کبھی خالی نہیں ہوتے تمہارے خزانے خالی ہو جاتے ہیں اس لئے تم اس کا دامن نہ چھوڑ واسی میں تمہاری بھلائی اور خوشحالی کے سامان ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس مسئلہ کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیشہ آپ کو رکھے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۲ مارچ ۱۹۸۳ ، صفحه ۵ تا ۱۲) 谢谢谢