خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 28

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۸ خطبہ جمعہ ۲۸ / جنوری ۱۹۷۷ء نہیں کی۔پہل شروع میں کسری کی زبردست طاقت نے کی ، قیصر کی زبردست طاقت نے کی ، پھر ان کا جو حشر ہوا وہ دنیا جانتی ہے۔تاریخ انسانی اسے جانتی ہے۔پس میں اپنے طالب علموں کو بتا یہ رہا ہوں کہ وہ لوگ چھوٹی چھوٹی عمر کے تھے لیکن انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی۔اس وقت جس قربانی کا مطالبہ تھا اب وہ مطالبہ نہیں ہے۔اب مطالبہ کی شکل بدل گئی ہے لیکن قربانی کا مطالبہ اور اس کی اصل اور حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے اس وقت کی دنیا مذہبی مخالفت میں تلوار نہیں اٹھاتی الا مَا شَاءَ اللہ کہیں سر پھرے نظر آ جاتے ہیں۔یہ زمین بہت وسیع اور پھیلی ہوئی ہے اس میں خال خال کوئی نظر آ جائے تو آجائے ورنہ عیسائی بھی اور دوسرے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر قتل کرنا درست نہیں ہے کیونکہ بحیثیت انسان ،انسان نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔تاہم کہیں کوئی سر پھرا اور جاہل انسان اس کے خلاف بھی نظر آ جاتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کہ ہم اس کی طرف توجہ دیں۔اس لئے آج کا مطالبہ تلوار کے مقابلے میں آنے کا نہیں۔آج کی قربانی اور مطالبہ یہ ہے کہ دوست اپنے علم میں جلا پیدا کریں اور اپنے عمل میں حسن پیدا کریں اور اپنے دل میں خدا کے لئے محبت ذاتی پیدا کریں اور خدا کی محبت ذاتی میں فنا ہو کر دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں۔پہلوں نے خدا تعالیٰ پر جو تو گل کیا تھا اس کی شکل اور تھی اب ایک دوسری شکل میں احمدی اپنے اندر تو گل پیدا کریں۔آخر گنتی کے چند آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔خدا تعالیٰ پر ان لوگوں کو کتنا تو گل تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو جو بشارتیں دی ہیں وہ واقعہ ہی خدا تعالیٰ کی بشارتیں ہیں اور اسے اسلام کو غالب کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔پھران کو یہ یقین بھی تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر قادر ہے۔اب آج کا جونو جوان اس وقت میرے سامنے بیٹھا ہے، وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس وقت کے حالات کیا تھے۔ساری دنیا ایک طرف تھی اور وہ چند آدمی ایک طرف۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک وقت میں دہلی تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ صرف بارہ آدمی تھے اور اب میرے جیسا عاجز انسان اور امریکہ کی کنونشن میں ایک ہزار آدمی۔چند دنوں کے بعد گوٹن برگ کی مسجد کا افتتاح کیا تو وہاں بھی