خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 27

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۷ خطبہ جمعہ ۲۸ / جنوری ۱۹۷۷ء ان کے ساتھ ملاپ کرنے سے اور ان سے باتیں کرنے سے اور ان کا نمونہ دیکھ کر بہت فائدہ پہنچا ہے۔پس اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اب بھی بہت سے دوستوں کی طرف سے وقف عارضی کے وعدے آ رہے ہیں لیکن اس تعداد میں نہیں آ رہے جس تعداد میں آنے چاہئیں۔دوست اس طرف توجہ دیں۔میں طالب علموں سے خاص طور پر کہتا ہوں کہ چونکہ گرمیوں کی چھٹیاں آرہی ہیں وہ ضرور وقف عارضی پر جائیں ان کا علم بڑھے گا۔جہاں وہ جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے انہیں نمونہ بننے کی کوشش کرنی پڑے گی اور اگر نو جوان ان کے لئے نمونہ بنیں گے تو ان پر بڑا اثر ہوگا کہ چھوٹی چھوٹی عمروں والے اس قسم کا کام کر رہے ہیں۔ویسے ہم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے تو اپنی عمر کی طرف کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔انہوں نے اپنی ذمہ داری کی طرف دیکھا تھا اور اتنے شاندار کام کئے اور اتنا اچھا نمونہ بنے ہمارے لئے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔وہ بھی تو آخر نوجوان ہی تھا جس نے سندھ سے اسلام پر حملہ آوروں کو شکست دی اور وہ بھی تو نو جوان ہی تھا جس نے پین میں عیسائیوں کے اسلام کو کمزور کرنے کے منصوبوں کو نا کام کر کے اسلام کی رحمتوں کو ان علاقوں میں پہنچایا۔وہ کوئی بڑے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ تو نہیں تھے۔اس قسم کی باتیں ان کے منہ سے نکلتی تھیں اور اپنے رب پر اس قسم کا تو کل ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ہم تو اب سنتے بھی ہیں تو اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے مگر یہ امر واقعہ ہے کہ کم و بیش بارہ ہزار کی قیادت کرنے والے نوجوان نے اپنی کشتیوں کو سپین کے ساحل پر جلا دیا کہ ہم نے اب واپس جا کر کیا کرنا ہے ہم آگے جائیں گے۔ہمارا خدا پر توکل ہے حالانکہ لاکھوں کی تعداد میں فوج مقابلہ پر تھی بلکہ سارا یورپ مقابلہ پر تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے سے بدی کے معاملات میں تعاون کرتے تھے لیکن مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔سپین کی تاریخ میں پھر آگے جا کر اسی قسم کے اور کئی نظارے ہمیں نظر آتے ہیں۔تاہم دوستوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم تاریخ کی چھان بین کرتے ہیں تو ہمیشہ اسلام کا دشمن اور مخالف ہی پہل کرتا ہوا نظر آتا ہے۔مسلمان نے کبھی پہل