خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 396 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 396

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۹۶ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۸ء کے بل بوتے پر عیسائیت بھی دنیا کے ایک بڑے حصے پر چھا گئی اور ہر قسم کے ناجائز ذرائع کو استعمال کر کے اور لالچ دے کر بڑا عروج حاصل کر لیا یہاں تک کہ عیسائی پادری یہ دعوے کرنے لگے کہ ہندوستان میں کوئی مسلمان ڈھونڈنے سے نہ ملے گا بلکہ وہ دن دور نہیں جب مکہ اور مدینہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرانے لگے گا اور افریقہ تو گویا ان کے قدموں میں ہے۔ایسے زمانہ میں تو ان کو مسلمانوں کے ساتھ مداہنت کا خیال نہ آیا لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے روحانی علوم سیکھ کر عیسائیت کے خلاف ایک زبر دست علم کلام پیدا کر دیا اور عیسائی اس کی تاب نہ لا سکے تو پھر وہ مداہنت پر اُتر آئے کہ کچھ تم نرمی کرو کچھ ہم نرمی کرتے ہیں جو ہو گیا سو ہو گیا۔نہ تم عیسائیوں کو مسلمان بناؤ نہ ہم مسلمانوں کو عیسائی بناتے ہیں۔فرمایا: یہ تو مداہنت یا منافقت ہے جو ان کے عقائد کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔حضور اقدس نے قرآن کریم کی سورہ قلم کی بعض ابتدائی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ دشمنانِ اسلام کی طرف سے اس قسم کی پیشکش در اصل ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔جس کا ظہور اسلام کی پہلی تین صدیوں میں بھی ہوتا رہا اور اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں کا سر صلیب کے زمانہ میں بھی ہو نا مقدر تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی میں دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے، آسمانی نشانوں اور قبولیتِ دعا کے اعجاز سے عیسائی عقائد کا سارا تار و پود بکھیر کو رکھ دیا تو عیسائیوں نے شور مچا دیا۔حالانکہ یہ امر واقعہ ہے جس کے اظہار سے ناراض ہونے کی بجائے عیسائیوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے تھی۔آپ نے فرمایا:۔عیسائیوں کا یہ کہنا کہ ہم مسلمان ان کے جذبات کا خیال رکھیں بالفاظ دیگر ہم ان کے اس عقیدہ سے چشم پوشی کریں کہ گویا حضرت مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کی خدائی میں شریک تھے ہم ایک لمحہ کے لئے بھی یہ سوچ نہیں سکتے۔کیونکہ الوہیت مسیح کا عقیدہ ہمارے ایمان کے خلاف ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ تو خدا تھے اور نہ ان میں خدا نے حلول کیا تھا۔وہ عام انسانوں کی