خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 392
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۹۲ خطبہ جمعہ ۱۶ /جون ۱۹۷۸ء کی کامل پیروی میں آپ کا مشن عالمگیر اور آپ کی تبلیغی کوششوں کا دائرہ ساری دنیا پر پھیلا ہوا ہے۔چنانچہ آپ نے بھی جب بھی انسان کو مخاطب کیا ہے کسی خاص طبقہ کے لوگوں کی بجائے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کیا ہے۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے چند اقتباسات پڑھ کر سنائے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے خدا دانی اور خدارسی پر زور دیا ہے اور دنیا پرستی کو چھوڑ کر نیکی اور تقویٰ اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا:۔انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور بشری کمزوریوں کے دور ہونے کے لئے ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ر ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ چاہے تو انسان کے سارے گناہ بخش سکتا ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے دعا کے ذریعہ سے اور اس کو راضی رکھنے کی کوشش کرے اس کا ہو کر اور اس میں کھوئے جاکر اور اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں پر صفات الہیہ کا رنگ چڑھا کر۔اگر انسان کو خدامل جائے تو پھر اسے دنیا کی کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پس اصل چیز خدا کا پیار ہے اگر یہ انسان کو حاصل نہ ہو تو اس کے اعمال خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں کسی کام کے نہیں۔اس لئے میں جماعت کے ہر فرد سے یہ کہتا ہوں کہ تم خدا کے ہو جاؤ اور شرک کی ہر راہ سے مجتنب رہو۔اپنے دل میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا کرو کیونکہ آپ کا وجود حسن واحسان میں یکتا اور علم وعمل میں کامل ہے۔جب تک آپ کا پیار دل میں پیدا نہ ہو اور آپ کی عظمت اور جلالت شان کا احساس نہ ہو اس وقت تک ہم اسلامی احکام پر کماحقہ عمل نہیں کر سکتے۔حضور انور نے فرمایا اس وقت جماعت احمدیہ کے افراد پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔انسان اور شیطان کے درمیان وہ آخری جنگ جس کے متعلق پہلے نوشتوں میں بھی خبر دی گئی ہے وہ اس وقت لڑی جارہی ہے اور یہ وہی جنگ ہے جس میں فتح یاب ہو کر ہم نے دنیا میں تو حید حقیقی کو قائم کرنا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان کو دنیا کے کونے کونے میں اجاگر کرنا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے حقیقی امن اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے ہیں لیکن یہ