خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۹۳ خطبہ جمعہ ۱۶ /جون ۱۹۷۸ء ایک دن کا کام نہیں ہے اس کے لئے برسوں ہمیں نسلاً بعد نسل قربانیاں دے کر اور عادتوں کو بدل کر اور گند سے نکل کر اور گندی عادتوں کو چھوڑ کر اور نیکی کا لبادہ پہن کر اور خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اعمال پر چڑھا کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار میں فنا ہو کر یہ جنگ جیتنی ہے۔اس لئے جماعت اپنے اندروہ فرقان پیدا کرے جو الہی سلسلوں کا طرہ امتیاز ہے تاکہ دنیا خود بخود اسلام کی طرف کھینچی چلی آئے۔حضور نے آخر میں فرما یا جماعت احمدیہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا مقام کیا ہے اور وہ کون سی ذمہ داریاں ہیں جو اس پر ڈالی گئی ہیں۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اس نے جماعت احمدیہ کو غلبہ اسلام کی مہم کے لئے چن لیا ہے۔اس انعام پر جماعت خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو اپنے درخت وجود کی شاخیں قرار دیا ہے اور بشارتیں دی ہیں کہ جماعت کے لوگ جو صدق و وفا کا نمونہ بن جائیں گے وہ جس چیز کو ہاتھ لگا ئیں گے خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔چنانچہ ہزاروں لاکھوں احمدی اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سے پیار کیا اور اُن کے وجود کو اپنی برکتوں اور رحمتوں کا نشان بنادیا۔حضور نے فرمایا میں احباب جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدا کے اس پیار کو اور اس کے احسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرنے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری کتابوں کو خود بھی پڑھیں اور اپنی اولادوں کو بھی پڑھائیں کیونکہ آپ کی کتابوں میں وہ سب علوم بیج کے طور پر یا تفصیلی رنگ میں موجود ہیں جو ہمارے ذہنوں میں نور فراست پیدا کرتے ہیں اور ہمیں اس لائق بنا دیتے ہیں کہ الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا دنیا کو قائل کر سکیں کہ تمہاری نجات اور بھلائی اور خوشحالی کے سامان صرف اور صرف اسلام میں ہیں اور کہیں نہیں۔روزنامه الفضل ربوہ ۶ جولائی ۱۹۷۸ء صفحہ ۱، ۸)