خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 375
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۷۵ خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۷۸ء لیا اور آپ پر ایمان لا کر آپ کے روحانی فیوض سے حصہ لیا۔یہ دعاؤں کے نتیجہ میں ہوگا اور اس دعا کے نتیجہ میں جو اس دل سے نکلی تھی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعرآء :۴) اور دنیا کے سامنے عملاً یہ نقشہ آ جائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم کسی ایک علاقے کسی ایک ملک یا کسی ایک نسل کے لئے رسول نہیں ہیں بلکہ حافة للناس کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ عملاً ثابت ہو جائے گا کیونکہ انسانوں کی بھاری اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گی اور خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔گو وہ اس شکل میں بیان نہیں ہوا لیکن وہ اپنے معنی کے لحاظ سے اس میں بیان ہو چکا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے ان دونوں آیتوں کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ وعدہ کب پورا ہوگا اور پھر ایک جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ چودھویں صدی میں اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ آجائے گا۔پس اس زمانہ میں ہم پر بڑی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔اس کے لئے ہم کوشش کرتے ہیں لیکن ہماری کوششیں حقیر ہیں۔اس کے لئے سب سے بڑی تدبیر یہ ہے کہ ہم اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھک کر جتنا کہ انسان کبھی اس کے آستانہ پر جھکا ہو۔عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد کے طالب ہوں اور اس کی مددکو پائیں۔اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کرے۔ہم اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ایک کوشش وہ کا نفرنس بھی ہے جس کے متعلق میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ وہ لندن میں ہو رہی ہے۔اس کا بڑا چر چاہے اور عیسائیت کے بعض حصوں میں بڑا ہنگامہ ہے۔سورۃ کہف کے شروع میں ہے کہ ان لوگوں نے بغیر دلیل کے اور بغیر معقولیت کے خدا تعالیٰ کا بیٹا بنالیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس مذہب کو دلائل کے ساتھ توڑا جائے گا اور نا کام کیا جائے گا لیکن وہ لمبا مضمون ہے اور بڑی پیشگوئیاں ہیں کہ کیا حالات پیدا ہوں گے کس طرح یہ قومیں ترقی کریں گی اور کس طرح پگھلیں گی ( دعاؤں کے ساتھ ہی یہ پگھلیں گی ) اور کس طرح یہ مجبور ہو کر اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف واپس لوٹیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے احسان کی معرفت حاصل کریں گی اور پھر ساری دنیا ایک خاندان