خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 360

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۷۸ء تیزی کے ساتھ یہ فاصلے طے کر لیتا ہے، گویا ایک لمحہ کے ہزارویں حصے میں کیمیاوی اجزا پر مشتمل کوئی چیز پیدا ہوتی ہے اور اس طرح دماغ کا حکم انگلی تک پہنچ جاتا ہے۔سائنس دانوں نے تحقیق کی ہے کہ جس وقت دماغ کا حکم اس پل پر سے گزر جائے تو اگر فوری طور پر خدا تعالیٰ کا دوسرا حکم نازل ہو کر کیمیاوی پل کو وہاں سے ہٹا نہ دے تو اسی وقت انسان کی موت واقع ہو جائے مثلاً ایک مکا باز ہے ( میں تو مکے باز نہیں میں تو پیار کرنے کے لئے پیدا ہوا ہوں ) بہر حال مکا باز با کسنگ کرتا ہے وہ اپنی طرف سے تو اپنے حریف کو زور زور سے مکے مار رہا ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس مکے کا حکم دماغ سے چل کر ہاتھ تک ہزار ہا موتوں میں سے گذرا تب جا کر وہ اپنا مکا لگانے میں کامیاب ہوا۔پہلے ہم محاورہ کے طور پر یہ کہتے تھے کہ ایک ساعت کا بھی اعتبار نہیں لیکن اب یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ ساعت کے ایک ہزارویں حصے کا بھی اعتبار نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے جب کسی انسان کی جان لینی ہوتی ہے تو اسے فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔سائنس کی نئی تحقیق کے مطابق وہ پل کو کہے گا اپنی جگہ پر کھڑارہ اور پل کے وجود کا قیام انسانی زندگی کا اختتام ثابت ہوگا۔پس خدا تعالیٰ کے یہ بے شمار احکامات ہیں جن کو اسلامی اصطلاح میں ہم حکم بھی کہتے ہیں اور امر بھی کہتے ہیں اور وحی بھی کہتے ہیں۔یہ احکامات باری تعالیٰ جو بے شمار اور غیر محدود ہیں اس کائنات کی ہر چیز پر اس لئے نازل ہو رہے ہیں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا منشا ہے ہر چیز انسان کی خدمت کرے۔خدا تعالیٰ اپنے احکام کے ذریعہ انسان کی ایسے رنگ میں پرورش کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء سے خدمت لے سکے یہ ایک چھوٹا سا دائرہ ہے جس میں انسان کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، بعض دفعہ وہ ابا اور استکبار سے کام لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ سے اس کی یہ دوری محض روحانی دوری ہے کیونکہ انسانی جسم تو دور جاہی نہیں سکتا۔انسان کے اعصاب تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اے خدا! تو پل بنا یا نہ بنا حکم خود بخود جسم کے مختلف حصوں میں چلا جائے گا یا وہاں سے ان پلوں کو ہٹا یا نہ ہٹا ہم زندہ رہیں گے، جسم کا کوئی حصہ یہ نہیں کہہ سکتا۔خدا تعالیٰ کا حکم تو بہر حال جاری ہے لیکن وہ وحی ،