خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 339

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء بچے نہیں کر سکتے۔ان کو قرآن کریم کے معنے نہیں آتے لیکن وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔خدا تعالیٰ ان سے پیار کرتا ہے اور اس پیار کو بڑھانا چاہتا ہے اس لئے اس پیار کے نتیجہ میں ان کو یہ خبر دیتا ہے۔مثلاً زمیندار کا بچہ ہے تو اسے یہ بتاتا ہے کہ تمہارے گھر میں جو بھینس بندھی ہوئی ہے اور بچہ دینے والی ہے وہ کئی دے گی یا کٹا دے گی۔اب یہ ہے تو ذراسی بات لیکن ہے بڑی پیاری بات۔اس لئے کہ آپ کوئی ایسا آدمی لا دیں جو یہ کہے کہ میں بتادوں گا کہ کٹی ہوگی یا کٹا ہوگا کیونکہ کل کی بات کا تو کسی کو پتا نہیں۔تیریکا لگانا اور چیز ہے۔لوگ گپیں مارتے رہتے ہیں لیکن ایک بات کا وثوق کے ساتھ کہنا اور پھر اس کا پورا ہوجانا، یہ اصل چیز ہے جو خدا تعالیٰ کے پیار پر دلالت کرتی ہے۔بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں کیوں نہ ہوں مگر وہ فی الحقیقت خدا کے پیار کا پتا دیتی ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا ۱۹۷۴ ء میں ہمارے ایک دوست کو رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے ایک دن تہجد اور صبح کام پر جانے کے درمیان تین باتیں بتا ئیں جن کا تعلق مستقبل کے ساتھ تھا۔چنا نچہ دو باتیں اسی وقت ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری ہو گئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ جس خدا نے دو باتیں پوری کر دی ہیں تیسری بات بھی اسی خدا نے بتائی ہے اس لئے وہ بھی اپنے وقت پر پوری ہو جائے گی اور اب وہ بھی پوری ہو چکی ہے۔پس ایسے ہزار ہا آدمی ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی ہیں۔وہ بالکل غریب سے لوگ ہیں۔انہیں بزرگی کا کوئی دعوی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا پیار ہے، جوان کے دل میں موجزن ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اس سے دعائیں کرتے ہیں، اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں مالی بھی اور جانی بھی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتے ہیں۔آپ پر برکات سے درود بھیجتے ہیں۔جس حد تک ان کو حالات اجازت دیتے ہیں اور ان کی استعداد میں ہے وہ قرآن کریم پر غور کرتے ہیں۔بہر حال اصل چیز تو یہی ہے کہ ان کے دل میں خدا تعالیٰ کا پیار ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ محبت انہوں نے قائم کیا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ان پر فرشتوں کے نزول کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان عظیم کی برکت ہے اور یہ ایک فضل الہی ہے جو کبھی بند نہیں ہوگا۔اب تک میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ تو ہے تمہید میرے آج کے اس خطبے کی ، اصل بات