خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 302

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء تو اگر ایک تکمیل کی قیمت ایک روپیہ ہو تو چند منٹوں میں ان کو ایک لاکھ روپے کا فائدہ ہو گیا۔اگر نکیل اٹھتنی سمجھ لی جائے تب بھی پچاس ہزار روپے کا فائدہ ہو گیا۔پس جو خدا داد فراست ہے اس کا اثر دنیوی مال و دولت کی تجارت میں بھی نظر آتا ہے۔اس كا في الدُّنْيَا حَسَنَةً کے ساتھ تعلق ہے۔تاریخ اسلام میں ہمیں اس قسم کی کئی مثالیں ملتی جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی تجارت بھی خوب چھمکی اور اسی طرح ہر دوسری چیز میں بھی جو دنیوی حسنات میں شامل ہے انہوں نے بہت ترقی کی۔مثلاً زراعت ہے اس میں مسلمانوں نے بہت ترقی کی۔سپین میں مسلمانوں نے بڑی ترقی کی اگر چہ مسلمانوں کو وہ ملک چھوڑنا پڑا اور اس وقت ان پر بڑا ظلم ہوا لیکن اپنے زمانہ حکومت میں انہوں نے درختوں پر بعض ایسے پیوند کئے جو حیرت انگیز تھے۔انہوں نے بادام وغیرہ کے درختوں پر گلاب کا کامیاب پیوند کیا چنانچہ جس طرح آڑو اور بادام کے بڑے بڑے درخت ہوتے ہیں اسی طرح وہاں گلاب کے درخت تھے جن پر گلاب کے پھول لگتے تھے۔غرض شجر کاری اور پھول اگانے اور ترکاریاں وغیرہ لگانے کے میدان میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس کو دیکھ کر اب بھی دنیا حیران رہ جاتی ہے۔یہ بھی ایک حیرت انگیز د نیوی حسنہ ہے جو اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔غرناطہ میں الحمراء نامی ایک بہت ہی خوبصورت محل ہے جسے ایک مسلمان بادشاہ نے تعمیر کر وایا تھا۔بعد میں بعض دوسرے مسلمان بادشاہوں نے اس میں بعض حصے بڑھائے بھی تھے۔یہ وہی محل ہے جس کی دیواروں پر لا غَالِبَ إِلَّا اللهُ الْحُكْمُ لِلَّهِ - اَلْقُدْرَةُ لِلَّهِ - اَلْعِزَّةُ لِلَّهِ وغیرہ خدا تعالیٰ کی بلندشان کے کلمات بڑی خوبصورتی کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں۔یہ کیوں لکھے گئے تھے۔یہ بھی ایک عظیم واقعہ ہے لیکن اس وقت وہ میرے مضمون سے تعلق نہیں رکھتا۔یہ محل ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جہاں پانی کا کوئی چشمہ نہیں تھا اور چونکہ درختوں اور پھولوں اور سبزے میں خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے جلوے نظر آتے ہیں اس لئے انہوں نے وہاں باغ لگانا تھا اس کے بغیر ان کے لئے محل بے معنی تھا اور کوئی چشمہ وہاں تھا نہیں تو انہوں نے پانی کا ایک