خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 303 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 303

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۰۳ خطبہ جمعہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء حیرت انگیز انتظام کیا۔اس پہاڑ سے چند میل پر ایک وادی ہے جس میں سے گزر کر دوسری طرف بہت اونچے پہاڑ ہیں جو ہر وقت برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔میں نے خودان کو دیکھا ہے محل میں کھڑے ہوں تو وہ سامنے نظر آتے ہیں۔جس وقت میں گیا ہوں گرمیوں کے دن تھے اور گرمیوں میں بھی برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔برف کا نچلا حصہ جب پگھلتا ہے تو کچھ تو برفانی نالوں کی شکل میں بہنے لگتا ہے اور کچھ زمین کے اندر جا کر زمین دوز نہریں بن جاتی ہیں جن کو ہم چشمے کہتے ہیں۔چنانچہ اس وقت کے مسلمان انجینئروں نے برف پوش پہاڑوں سے کوئی چشمہ پکڑا اور اس پہاڑ کے اوپر لے آئے جہاں بادشاہ نے محل تعمیر کروانا تھا اور یہ انتظام اب تک قائم ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک اچھا خاصا راجباہ ہے جس میں پانی بہ رہا ہوتا ہے۔اگر پانی میسر نہ آتا تو وہاں نہ کوئی درخت اُگ سکتا تھا نہ گھاس اگ سکتی تھی۔نہ سبزیاں اُگ سکتی تھیں اور نہ پھول اُگ سکتے تھے اور انہوں نے یہ انتظام کیسے کیا آج کا سائنسدان بھی اسے دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے اور اسے یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی کہ مسلمانوں نے پہاڑ کی چوٹی پر پانی کس طرح پہنچا دیا۔چنانچہ لوگ اس کو چھیڑتے نہیں کیونکہ ان کو خطرہ ہے کہ اگر انہوں نے اس کو چھیڑا تو یہ نہ ہو کہ پھر پانی آنا ہی بند ہو جائے۔پس یہ ربّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی دعا کی برکت ہے جو مسلمانوں کو سکھائی گئی اور یہ اسی دعا کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر معجزانہ طور پر پانی لے گئے جس میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک عجیب نظارہ ہے۔پس اسلامی تعلیم کے اندر ہمارے لئے ہر شعبہ زندگی میں بزرگی اور شرف کے سامان رکھے گئے ہیں۔یہ کوئی چٹی نہیں ہے اور نہ اس میں ہمارے لئے کوئی حرج ہے بلکہ اس میں ہمارے لئے رحمت کے سامان ہیں۔فارسی کا محاورہ ہے کسب کمال گن که عزیز جهان شوی“ کمال حاصل کرو گے تب تمہاری بزرگی قائم ہوگی۔جہاں تک انسانی جسم کا تعلق ہے اس کو مضبوط کرنے اور مضبوط رکھنے کے لئے پر حکمت اصولوں سے اسلامی تعلیم بھری پڑی ہے۔ہر گناہ کسی نہ کسی طریقے پر ہمارے جسم کو بھی کمزور کر رہا ہے اور بہت سے گناہ تو ایسے بھی ہیں جن کا انسان کے جسمانی قومی پر بہت گہرا اور گندہ اثر پڑتا ہے۔قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بتایا ہے کہ وہ