خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 286

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۸۶ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء ہوں کہ اصل ذمہ داری تو آپ کی ہے باہر سے آنے والے مہمانوں میں سے جو خود کو رضا کار کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کی ذمہ داری تو نہیں ہے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے مرکز سلسلہ میں جگہ دی آپ یہاں رہتے ہیں اور دینی اور دنیوی برکات حاصل کرتے ہیں۔پس آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ کی اولاد باہر سے آنے والوں کی خدمت کرے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مہمانوں کی تعداد بہت بڑھ رہی ہے اور اگر ربوہ کے سارے رضا کا ر آ بھی جائیں تب بھی وہ کافی نہیں ہوں گے لیکن پورے آتے بھی نہیں۔اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ جس حد تک ممکن ہو آپ اپنے بچوں اور عزیزوں کو جلسہ کے کام کے لئے پیش کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ کام کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی برکتوں کو حاصل کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کچھ رضا کار باہر کی جماعتوں سے بھی لئے جاتے ہیں اور اس کا ایک انتظام ہے وہ با قاعدہ وہاں کی جماعتی تنظیم کے ماتحت آتے ہیں یہ نہیں کہ خود ہی آکر یہاں نام لکھوا دیں۔تو اس تنظیم کے ماتحت جتنے رضا کا رجلسہ کے نظام کو ملنے چاہئیں وہ بہر حال انہیں ملنے چاہئیں تا کہ نظام کے اندر کوئی خرابی پیدا نہ ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو جو یہاں خدا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے کے لئے آتے ہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ایک اور بات یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ مسکراتے رہنا چاہیے۔میں نے کئی دفعہ یاد دہانی کروائی ہے اور ۱۹۷۴ ء سے جماعت نے اس کی طرف بڑی توجہ دی ہے اور اس سے بہت برکتیں حاصل کی ہیں۔مسکراہٹ چہرے پر کئی بواعث سے آتی ہے، بہت سی وجوہ ہیں جن سے آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے۔لطیفوں کے بارہ میں فلاسفر دماغ نے بہت موٹی موٹی کتابیں لکھی ہیں۔میرے پاس بھی ایک کتاب تھی، کسی بچے نے لے کر وہ خود ہی نہ رکھ لی ہو اس کا نام تھا Enjoyment of Laughter ( اینجوئمنٹ آف لافٹر ) اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ وجوہ ہیں یہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے انسان کے وجود میں گدگدی ہوتی ہے اور چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔مسکراہٹوں کے جو د نیوی بواعث ہیں ان کے اندر کوئی گہرائی نہیں نہ ان میں کوئی وسعت ہے اور وہ عارضی ہیں اور بعض دفعہ ان کا اخلاق سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ انسان کے جسم کو