خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء گئے تھے ہماری تعلیمی عمارتیں جلسہ کے مہمانوں کے لئے استعمال ہوتی تھیں اور قومیائے جانے کے بعد بھی غالباً ایک سال یا زائد عرصہ تک استعمال ہوتی رہی ہیں اور پھر کہا گیا کہ نہیں یہ عمارتیں جو جماعت احمدیہ سے لی گئی ہیں اور جن کی مالیت آج کے حساب سے غالباً سات آٹھ کروڑ روپے ہے ہم چند دن کے لئے بھی جماعت کو استعمال کے لئے نہیں دے سکتے۔یہ یکدم ایک نیا مسئلہ اور نئی الجھن پیدا ہوگئی ، لیکن باہر سے جو تنگی پیدا کی جاتی ہے اندر کی فراخی اس تنگی کے بداثرات کو دور کر دیتی ہے۔میں نے اہل ربوہ سے کہا تھا کہ اگر یہ عمارتیں نہیں ملتیں تو تمہارے دلوں میں تو اتنی گنجائش ہونی چاہیے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو ٹھہر اسکو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا، اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور اہل ربوہ نے ہمارے لئے مہمانوں کے ٹھہرانے کا کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہونے دیا اور ان کو اپنے گھروں میں جذب کر لیا۔اس سال دونئی چیزیں پیدا ہوگئی ہیں ایک ہمارے شہر میں اور ایک ہمارے ملک میں۔ہمارے شہر میں جلسہ سالانہ کے لئے کچھ رہائش گا ہیں تعمیر ہوئی ہیں اگر چہ ان کی گنجائش زیادہ نہیں لیکن کچھ رہائش گا ہیں جلسہ کے مہمانوں کے لئے تیار ہوگئی ہیں۔تھوڑی سی پچھلے سال بھی تھیں لیکن زیادہ تر اس سال تعمیر ہوئی ہیں۔مستورات کے لئے بھی رہائش گاہیں بنی ہیں اور مردوں کے لئے بھی لیکن ان رہائش گاہوں میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ان مہمانوں کو اپنے اندر ٹھر اسکیں جو اس سے قبل درسگاہوں میں ٹھہرائے جاتے تھے اس لئے اگر یہی حالت رہی تو اس تنگی کو آپ کے سینے کی فراخی نے دور کرنا ہے۔آپ کے مکانوں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی برکات سے بھی معمور کر دے۔دوسری نئی چیز یہ پیدا ہوئی ہے کہ پچھلے سال ہمارے ملک میں جو حکومت تھی وہ تبدیل ہو چکی ہے اور ایک نئی حکومت آگئی ہے۔اس نئی حکومت نے جماعت کو کچھ سہولتیں دی ہیں۔میں نے اس سے پہلے بھی ان کا شکریہ ادا کیا تھا کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع کئی سال کے وقفہ کے بعد منعقد ہوا۔ہم امید رکھتے ہیں کہ اس سال یہ نئی حکومت ہمارے جلسہ کے مہمانوں کی رہائش کے لئے وہ عمارتیں جو ہم سے قومیائی گئی ہیں ہمیں دے دے گی لیکن بہر حال یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے ہم نے نہیں کرنا۔