خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۵ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء پتہ نہیں۔اس کو آج نہیں پتا، کل تو پتا لگ جائے گا اور پھر گندی گالی دینے کی عادت تو پڑ جائے گی۔ایسی عادتیں نہیں ڈالنی چاہئیں اور جو اچھی باتیں ہیں ان کی عادت ڈالنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کا نام اللہ بچے کی زبان پر آجائے وہ لا الہ الا الله کہنے لگ جائے ، وہ اپنی توتلی زبان میں کہے گا اور کئی تو بڑی عمر میں بھی توتلی زبان استعمال کرتے رہے۔حضرت بلال أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہتے تھے وہ ش“ نہیں بول سکتے تھے لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے خدا تعالیٰ کا نام تو ان کی زبان پر آ گیا۔پس اطفال گہرائیوں میں جائے بغیر ذکر الہی کر سکتے ہیں بشرطیکہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی تنظیم اس کی یاد دہانی کراتی رہے اور اس کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ جب جلسہ ہو رہا ہو تو ہر تقریر کے بعد میری یہ ہدایت بطور یاد دہانی بتا دی جائے کہ ہمارا یہ اجتماع ذکر الہی اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے، ہمیشہ ہی ہماری زندگی میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے لیکن اس اجتماع کی یہ خصوصیت ہے کہ ذکر الہی میں مشغول رہیں اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کرتے ہوئے جھکے رہیں۔بہتوں کو دعا کا نہیں پتا ہوتا کہ کیا دعائیں کریں اس واسطے میں مختصر بتا دوں کہ دعا اپنے نفس سے شروع ہونی چاہیے۔آپ میں سے ہر ایک یہ دعا کرے کہ اے خدا! تو مجھے اپنی رحمت سے نواز اور میرے اوپر اپنے فضل نازل کر اور مجھے توفیق دے کہ تو نے مجھے جو قو تیں عطا کی ہیں میں ان کی صحیح نشود نما کر کے تیری رضا کو حاصل کر سکوں اور بدی سے مجھے ہمیشہ محفوظ رکھ اور مجھے تو ایسی طاقت دے کہ شیطان کبھی مجھ پر کامیاب حملہ نہ کر سکے اور مجھے تو دنیا کا خیر خواہ بنا دے۔کسی کو میرے ہاتھ یا میری زبان یا میرے جوارح سے تکلیف اور ایذا نہ پہنچے۔ہر ایک کی خیر خواہی میرے دل میں ہو۔دنیا میں امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے میری زندگی کے لمحات خرچ ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق انسان کے دل میں پیدا کرنے کی میں ہمیشہ کوشش کرتا رہوں اور وہ حسن اور وہ احسان جس کے جلوے میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اپنی زندگی میں دیکھے ہیں وہ میں آگے دوسروں تک پہنچانے کے قابل ہو جاؤں۔خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنے والا ہوں۔