خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 251 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 251

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۵۱ خطبه جمعه ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء میری تو روزی ہی یہ ہے اگر سارا پھل مر گیا تو میں کھاؤں گا کہاں سے؟ تب اس کے دماغ میں یہ بات آئی کہ میں اپنے باغ میں جا کر پھروں اور دیکھوں کہ کوئی جڑی بوٹی ایسی بھی ہے جس پر اس بیماری نے ، اس کیڑے نے حملہ نہیں کیا تو اس کے اپنے باغ میں ہی اس کو ایسی جڑی بوٹیاں مل گئیں جن پر اس تیلے نے اس کیڑے نے حملہ نہیں کیا تھا۔چنانچہ اس نے ان کو اکھیڑا ، ان کا جوشاندہ بنایا اور اس کا سپرے کیا اور سارا کیڑا مر گیا۔اب یہ پہلی دفعہ اس کے مشاہدے نے اس کو بتایا جو سمجھتا تھا کہ کیڑے مار دوائیاں جو بن سکتی تھیں بن گئیں ، اب اور کچھ نہیں ہوسکتا۔یہ تو میں نے ایک مثال دی ہے کہ جہاں انسانی دماغ ٹھہرا ہوا تھا۔مشاہدے نے اس کو دھکا دے کر آگے بڑھا دیا۔جہاں تم ٹھہرے ہو وہ انتہا نہیں آگے بھی دروازہ کھلا ہے، پھر آگے دروازہ کھلا ہے۔انسان نے اپنی پیدائش سے ، ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس وقت تک پتہ نہیں کتنے غیر محدود مشاہدات کئے یعنی ہم ان کی حد بندی نہیں کر سکتے۔ویسے تو انسان محدود ہے لیکن بے شمار مشاہدات ہیں ہم ان کو شمار میں نہیں لا سکتے۔اس واسطے ہم کسی جگہ ٹھہر نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے بہت بڑا علمی میدان کھول دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ والسلام فرماتے ہیں کہ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں بلکہ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اس کی ذات کی طرح غیر محدود اور نا پیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے ہمیں ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بغیر ان امور کے جو اس کی شان کے مخالف ہیں یا اس کے وعدوں کے برخلاف ہیں وہ ہر بات پر قادر ہے۔خدا تعالیٰ تو اپنے وعدہ کا پکا ہے اس لئے اگر کوئی یہ پوچھے کہ کیا خدا تعالیٰ اپنا وعدہ تو ڑ سکتا ہے تو یہ سوال پوچھنے والے کی حماقت ہے خدا تعالیٰ کی شان میں تو کوئی فرق نہیں آئے گا وہ اپنے وعدے نہیں تو ڑا کرتا۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اس معنی میں قادر نہ ہوتا کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے تو پھر ہم اس سے کیا امید رکھ سکتے۔ہم جو ہر موقع پر اور ہر ضرورت کے وقت اور ہر تکلیف میں اور ہر بھلائی اور خیر کے پانے کے لئے اس کے آگے جھکتے اور اس سے دعائیں کرتے ہیں تو اس کی بنیاد یہی امید ہے کہ