خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 250

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۵۰ خطبہ جمعہ ۲۱ /اکتوبر ۱۹۷۷ء صفات کے کتنے نئے جلووں کو ان اشیاء نے جذب کیا اور ان کی ہیئت پہلے سے مختلف ہو گئی۔ان حقائق کے بیان سے ایک اور نتیجہ نکلتا ہے بڑا ز بر دست نتیجہ۔وہ یہ کہ چونکہ خدا تعالیٰ اپنی صفات کا ملہ کے ساتھ غیر محدود اور غیر متناہی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی ان صفات کے غیر محدود جلوے خدا تعالیٰ کی مخلوق پر ہورہے ہیں اور ان جلووں سے ایک اثر پیدا ہوتا ہے اور یہی منشاء رتی ہے اور مخلوق کو یہ خاصیت دی گئی ہے کہ وہ اس اثر کو قبول کرے اس لئے انسان بڑا ہی نادان ہوگا اگر وہ یہ دعویٰ کرے کہ آثار الصفات کو یعنی غیر محدود جلووں کے نتیجہ میں جو مخلوق کی غیر محدود خاصیتیں رکھنے والی چیزیں ہیں ان کو اپنے تجربے یا اپنی عقل یا اپنے مشاہدہ کے اندر باندھا جا سکتا ہے اور محدود کیا جا سکتا ہے۔اس واسطے قوانین قدرت محدود نہیں ہیں ( میں نے پہلے بتایا تھا کہ آثار الصفات کا نام ہی سنت اللہ اور قانونِ قدرت ہے ) اور نہ ہمارا تجربہ ان کی حد بندی کر سکتا ہے جیسا کہ خود ہمارے تجربے نے بتایا ہے کہ وہ نہیں کر سکتا مثلاً آج سے سو سال پہلے جتنی ریسرچ ہوئی ہے اس ریسرچ نے اس تحقیق نے ہر قدم پر ہمیں بتایا ہے کہ ہماری تحقیق حد بندی نہیں کر سکتی۔ہمارا فہم اس کی حد بندی نہیں کر سکتا۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کو ہر روز کوئی نہ کوئی نئی چیز خدا کی قدرت کے اندر نظر آتی ہے اور مشاہدہ ان کو بتا تا ہے کہ وہ حد بندی نہیں کرسکتا اور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جو قوانین قدرت ہمیں معلوم ہیں بس وہی ہیں ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کیونکہ اگر آثار الصفات کا نام ہی سنت اللہ اور قوانین قدرت ہے تو قوانین قدرت بھی غیر محدود ہیں اور انسان ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ ہمارا مشاہدہ بھی ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ہماری بہت سی تحقیق مشاہدہ کے نتیجہ میں ہے یعنی لیبارٹریز وغیرہ میں نہیں بلکہ بس ایک چیز سامنے آگئی اور اس نے ایک سبق دے دیا مثلاً میں نے ایک مضمون پڑھا کہ امریکہ میں ایک شخص تھا اس کا صرف ایک باغ تھا۔کافی بڑا باغ تھا اور بڑے پیسے کماتا تھا۔اسی پر اس کا گزارا تھا اور گزارے کی کوئی اور چیز اس کے پاس نہیں تھی۔موسم بہار میں جب پتے نکلے اور درخت پھل سے لد گئے تو اس نے دیکھا کہ ”تیلا یعنی پتوں وغیرہ کو کھانے والے اور نقصان پہنچانے والے کیڑے نے اس کے باغ پر شدید قسم کا حملہ کیا ہے۔وہ بڑا سخت پریشان ہوا کہ