خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء اور تحقیق کرنی چاہیے۔پھر انہوں نے اور تحقیق شروع کی۔پھر انہوں نے کہا کہ انہیں ست ہیں۔یہ میں مثال دے رہا ہوں۔پھر جس طرح جانور جگالی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اچھا اب اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اب اُنیس ست بن گئے۔پھر کچھ عرصے کے بعد نوجوان سائنسدان میدان میں آئے انہوں نے کہا کہ پہلوں نے ریسرچ کی تھی ہم کیوں پیچھے رہیں۔پھر انہوں نے ریسرچ کی اور انہوں نے کہا کہ چھپیں، ستائیس ست ہیں۔پھر اس پر تسلی پکڑ لی اور کچھ عرصہ ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔پھر ایک نئی نسل پیچھے سے آ گئی نوجوان سائنسدانوں کی ، اس نے کہا میں کیوں پیچھے رہوں پھر اس نے ایک نئی ہمت اور عزم کے ساتھ ریسرچ شروع کی اور پھر اس نے کہا کہ افیم میں چھتیس کے قریب ست ہیں۔میرے آخری علم کے مطابق یہی ہے اس کے بعد اور بہت سی ریسرچ ہوئی ہے جس کا مجھے پتہ نہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے اس کی ساری مخلوقات پر ہر وقت ظاہر ہورہے ہیں اور ہر مخلوق کو خدا تعالیٰ نے یہ خاصیت دی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے جلووں سے اثر قبول کرے اس لئے خواص اشیاء غیر محدود ہیں اور آدمی ان کی حد بندی نہیں کرسکتا۔پس بڑا عظیم علم ہے جو ایک مسلمان کو بنیادی طور پر دیا گیا تھا تا کہ وہ اپنی علمی تحقیق میں کسی جگہ کھڑا نہ ہو جائے لیکن ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم کھڑے ہو گئے اور پیچھے رہ گئے۔ایک وقت میں سپین کی مسلمان یونیورسٹیاں یورپ کے بڑے بڑے علماء کو اپنی طرف کھینچ لینے کی توفیق پاتی تھیں اور وہاں بڑی عمر کے اور اپنی دنیا کے مانے ہوئے سکالرز اور محقق مزید علوم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔اگر مسلمان آگے بڑھتے رہتے تو ہمیشہ یہی کیفیت رہتی لیکن خدا کی یہی مصلحت تھی روک پیدا ہو گئی۔لیکن اب اسلام کی ترقی کا نیا دور شروع ہوا ہے اور ایک احمدی دماغ کو میں کہتا ہوں کہ کسی جگہ ٹھہر نا نہیں کیونکہ خدا نے کہا ہے کہ کوئی چیز بھی لے لو، خشخاش کا دانہ ہو یا ایٹم کا ذرہ اس کی تحقیق کسی جگہ ختم نہیں ہوتی۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ حاصل کر لیا ہے اور اب باقی کچھ نہیں رہا صرف پھوک رہ گیا ہے۔پھوک کوئی نہیں ہے کیونکہ مثلاً سائنٹیفک ریسرچ کا تحقیق کا جو دس سالہ زمانہ تھا ان دس سالوں میں پتہ نہیں خدا تعالیٰ کی