خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 228

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر۱۹۷۷ء ہمیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔سورۃ ملک کے شروع میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی قرآن کریم نے متعد دجگہ اس کا ذکر کیا ہے۔جب ہم اس کائنات پر مجموعی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ کائنات دوحصوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ایک حصہ تو وہ ہے جو انسان کے علاوہ کائنات کی ہر چیز پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ خود انسان سے تعلق رکھتا ہے، گویا ایک حصے کا تعلق انسان سے ہے اور دوسرے حصہ کا تعلق انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات سے ہے۔انسان کے علاوہ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس اصول سے باندھا ہے کہ اسے جو کہا جائے گا وہ ویسا ہی کرے گی۔انسان کے علاوہ کسی چیز کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کر سکے۔اُسے جو کہا جاتا ہے یا اس کے لئے جو امر صادر ہوتا ہے اس کے مطابق اس کا فعل ہوتا ہے اور چونکہ وہ حکم ماننے والی اشیاء ہیں اس لئے ان کے متعلق ترقی یا تنزل کا سوال عقلاً بھی پیدا نہیں ہوتا یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے کا سوال ہے یہ درخت جو ہمیں نظر آتے ہیں یا یہ دریا جن میں پانی بہتا ہے یہ اور اسی قسم کی دوسری چیزیں خدا کے ساتھ تعلق رکھنے میں ترقی بھی کر سکتی ہیں یا تنزل بھی کر سکتی ہیں۔یہ عقلاً نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ان کا تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب سے یہی ہے کہ ان کو جو حکم ملے گا وہ اسے بجالائیں گے۔کائنات کا دوسرا حصہ انسان سے تعلق رکھتا ہے۔انسان کو اپنی زندگی اور وجود کے ایک خاص دائرے میں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اور چاہے تو ان کی اطاعت نہ کرے لیکن انسان کے علاوہ کائنات کی دوسری قسم کو یہ اختیار نہیں دیا گیا وه تو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم: ۷) کی رو سے وہی کچھ کرتے ہیں جس کا خدا ان کو حکم دیتا ہے اور ان کو حکم یہ ہے کہ تم نے انسان کی خدمت کرنی ہے یعنی خدا تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو بلا استثنا اصولی طور پر یہ حکم دے رکھا ہے کہ اس نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔گو خدمت کی شکلیں مختلف بن جاتی ہیں لیکن کائنات کی ہر شے اصولی طور پر انسان کی کسی نہ کسی خدمت پر مامور ہے۔جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی