خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 227
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲۷ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر ۱۹۷۷ء اسلامی تعلیم کی رو سے انسان کو احکام الہی کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۴ را کتوبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قبل اس کے کہ میں آج کا خطبہ شروع کروں میں یہ بتا دیتا ہوں کہ میں نے جو سلسلہ مضامین شروع کیا تھا آج اس سے ہٹ کر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ہماری یہ کائنات جو ہر دو جہاں پر مشتمل ہے اور جسے انگریزی میں یو نیورس (Universe) کہا جاتا ہے اس کی زندگی اور بقا کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ویسے تو خدا جانے اس کی مخلوقات میں اور کتنی کا ئنات ہیں لیکن ہم جب کائنات یا ہر دو جہاں کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے جو کائنات مراد ہے اس کی اور ہر دوسری کائنات کی زندگی کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے اور اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات جلوہ گر ہیں۔خدائی صفات کے جلوے غیر محدود ہیں۔بایں ہمہ ان میں کوئی تضاد نہیں یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا کی بعض صفات اس کی بعض اور صفات کے مخالف کام کر رہی ہوں یا کسی ایک صفت کے بعض جلوے اسی صفت کے بعض دوسرے جلووں سے متضاد ہوں۔ہر چیز خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں میں بندھ کر ایک بنی ہوئی ہے۔ساری کائنات کا آپس میں تعلق ہے اور بڑا گہرا تعلق ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں میں ر