خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 185

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۸۵ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۷۷ء جب ذکر اللہ کے ذریعہ سے شیطان کو باندھنے کی کوشش نہیں کی جاتی تو اس وقت شیطان حملہ کرتا ہے اور پھر شیطان اپنا اثر ڈالنا شروع کرتا ہے پھر یہ اثر بڑھتا چلا جاتا ہے پھر انسان ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے پھر وہ حزب الشیطن میں سے بن جاتا ہے اور پھر وہ حقیقی اور ہمیشہ کا گھاٹا پانے والا بن جاتا ہے۔توفیق رمضان کا یہ آخری جمعہ ایک لحاظ سے بڑا اہم ہے کیونکہ یہ انسان کو آخری موقع دیتا ہے کہ وہ اس جمعہ میں یہ دعا کرے کہ اے خدا جس طرح تو نے رمضان کے مہینے میں ہمیں اپنے ذکر کی توفیق دی تھی ایسا کر کہ گیارہ کے گیارہ مہینے جو اگلے رمضان سے پہلے آنے والے ہیں ان میں بھی ہمیں اسی طرح تیرے ذکر کی توفیق ملتی رہے اور اس طرح ہمارا شیطان مسلمان ہو جائے ، بندھ جائے ، اس کی Mischief ( مس چیف ) اور اس کی شرارت جاتی رہے۔ذکر اللہ کے ساتھ جس وعدے کو باندھا گیا ہے وہ صرف رمضان کے متعلق نہیں۔رمضان میں انسان مقبول دعاؤں کی پاتا ہے اور رمضان کی مقبول دعائیں سارے رمضان ہی میں ہیں لیکن خاص طور پر رمضان کے جمعوں میں ہیں اور مقبول دعا کا آخری موقع آخری جمعہ کے دن ہے تو جب رمضان کی مقبول دعاؤں کے نتیجہ میں انسان ذکر اللہ کی ، ذكراً كَثيرا والے ذکر اللہ کی توفیق پاتا ہے، کثرت سے خدا تعالیٰ کا ذکر کرنے کی توفیق پاتا ہے تو اس کا شیطان مسلمان ہو جاتا ہے اور باندھ دیا جاتا ہے پھر اس کی شرارت اثر انداز نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا کہ صبح شام اس کی تسبیح کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا که هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَیكُم تم اس کی رحمتوں کے وارث بنو گے اور اس کے ملائکہ تمہارے لئے دعائیں کریں گے جس کے نتیجہ میں تمہارے اندھیرے دور کر دیئے جائیں گے اور تمہارے لئے نور کے سامان پیدا ہو جا ئیں گے۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی کوششوں اور ان کی جدو جہد اور مجاہدہ کو ضائع نہیں کرتا۔وہ تو مومنوں کے لئے بڑا رحیم ہے۔ان کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور جو خامیاں رہ جاتی ہیں نیک نیتی سے جو اعمال کئے جائیں ان کے اندر بھی بشری کمزوریاں رہ جاتی ہیں ان کو وہ اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے ڈھانک دیتا