خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 3

خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۷۷ء انہوں نے وقف جدید میں کم و بیش ایک سال تک تعلیم حاصل کی بلکہ اپنے طور پر ایک طرف انہوں نے تقویٰ میں آگے بڑھنے کی کوشش کی اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کثرت سے مطالعہ کیا اور تدریس بھی کی اور انہوں نے لوگوں کو بھی کتب کے معانی بتانے کی کوشش کی وہ بعض دفعہ جامعہ کے فارغ التحصیل اچھے اچھے طلباء سے بھی آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قبولیت کے حصول کے متعلق کہیں بھی ہمیں یہ شرط نظر نہیں آتی کہ جو جامعہ احمدیہ سے نکلے گا خدا تعالیٰ صرف اسے ہی قبول کرے گا اور نیکی کی دیگر کوششیں خدا کے حضور قبول نہیں کی جائیں گی۔یہ کہیں نہیں لکھا ہوا اور نہ عقل اسے باور کرتی ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاری جائے اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور جس وقت ہم خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے عرفان کا ذکر کرتے ہیں تو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ روحانی ترقیات کا گویا ایک نہ ختم ہونے والا میدان اُن کے سامنے کھل گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات کو اور نہ صفات کو ہم محدود ہستیاں اپنے احاطہ میں لاسکتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے انسان کی محدود کوشش بہر حال اپنے احاطہ میں نہیں لاسکی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے کا موقع دیا ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے اور حدیث میں بڑی وضاحت سے آیا ہے کہ جتنا جتنا کوئی خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو زیادہ پالیتا ہے اور ان کو ڈھونڈ لیتا ہے اور پہلے کی نسبت اس کے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ ایک بہت ہی بہتر اور پہلے سے اچھے پیار کا جلوہ اس کے اوپر ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے لیکن جو لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کو محسوس کرتے ہیں اور جن کے تجربے میں یہ باتیں آتی ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کے پیار اور رضا کے حصول کے لئے انسان جو کوشش کرتا ہے وہ کسی ایک مقام پر کھڑی نہیں ہو جاتی بلکہ ایک خاص مقام پر پہنچنے کے بعد ایک ارفع مقام اُسے نظر آتا ہے صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد جنت یعنی اُخروی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر دن اور چونکہ وہاں کے دنوں کا تو ہم تصور نہیں کر سکتے کہ کیسے ہیں اس لئے کہنا