خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 2

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء ہونا اور اسی طرح کسی انسان کی جسمانی یا اخلاقی یا روحانی تکلیف کا نا قابل برداشت ہو جانا اصل چیز ہے۔اس قسم کا احساس دل میں پیدا ہو جانا زیادہ اہم ہے علمی معیار سے۔اس معیار کو ہم تقویٰ کا معیار کہہ سکتے ہیں۔اس معیار کے پیدا کرنے کے لئے اور اس کے حصول کے لئے اور اس کے قیام کے لئے اور اس میں آگے بڑھنے کے لئے کسی ” جامعہ“ کی ضرورت نہیں ہے ہر مسلمان کو ہی اس میدان میں ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے کہ وہ آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے لیکن جن لوگوں پر دینی اور روحانی ذمہ داریاں زائد آپڑتی ہیں ان کو اس طرف زیادہ توجہ دینی ضروری ہو جاتی ہے۔اس لئے ہمیں عملاً یہ نظر آتا ہے کہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل بعض شاہد ایسے ہیں کہ حصول علم کے بعد یعنی دینی علمی معیار کافی بلند ہو جانے کے بعد بھی وہ دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔یہاں بھی اور انڈونیشیا کے بھی بعض نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اس معیار کو قائم کیا اور پھر وہ دوسرے کا موں میں لگ گئے جو شاہد دین کی خدمت پر ہی لگے رہے ان کا جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل وہ بھی ہیں کہ ان کی زندگی ہمہ وقت اسلام کی خدمت میں مصروف رہنے والی زندگی ہے اور قوم کو اُن پر فخر کرنا چاہیے کہ وہ بہتوں کی بھلائی کا سبب اور ذریعہ بنتے ہیں اور خدا کی نگاہ میں ان کی کوشش مقبول ہوتی ہے سعی مشکور ہوتی ہے کیونکہ ان کی کوشش کا نتیجہ ان کی کوشش سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بھی اور دنیا کو بھی ملتا ہے۔یہ ہماری نگاہ دیکھتی ہے اور کئی ایسے ہیں جو کوشش تو بظاہر دین کی راہ میں کر رہے ہیں لیکن بے شمر کوشش جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور ہیں وہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل۔اس کے مقابلے میں جس نے شاید ایک سال دینی تعلیم لی وقف جدید کے ماتحت اور جسے ہماری اصطلاح میں معلم کہا جاتا ہے ان میں ایسے ہیں جو ان شاہدین سے بہتر کام کر رہے ہیں جنہوں نے جامعہ احمدیہ سے تعلیم حاصل کی اور انہوں نے ۶، ۷ سال لگائے اور ان پر بڑی محنت کی گئی ، خود انہوں نے بھی محنت کی لیکن ان کی کوشش بے نتیجہ ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی سعی مشکور سعی نہیں ہوتی۔ہماری جماعت میں صرف ان دو گروہوں کے درمیان ہی موازنہ اور روزمرہ کا ایسا مشاہدہ ہی نہیں جو کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ لوگ جنہوں نے نہ جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی نہ