خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 140

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۰ خطبہ جمعہ ۲۹ / جولائی ۱۹۷۷ء المليكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة : ٣١) اس کے علاوہ بھی اور بہت سی آیات ہیں جن میں لقاء باری تعالیٰ کا ذکر آیا ہے۔اس لقا کے بہت سے لوازمات بھی ہیں جن کو ہم (۱) برکات سماویہ بھی کہتے ہیں اور (۲) مکالمات الہیہ بھی کہتے ہیں ہم ان کو (۳) قبولیتیں بھی کہتے ہیں اور (۴) خوارق بھی کہتے ہیں۔امت محمدیہ میں یہ پھل یعنی خدا تعالیٰ کا قرب اور پیار اس کثرت سے انسان کو ملا ہے کہ اس کا شمار بھی مشکل ہے اور لقا کے جولوازمات تھے ان میں لوگ کثرت سے حصہ دار بنے مگر بِاِذْنِ رَبَّهَا یعنی اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ گویا قرآن عظیم کے نزول کے ساتھ لوگوں کی ربوبیت تامہ کا سامان ہو گیا۔چنانچہ جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی نشو ونما ہوتی ہے مثلاً گندم ہے میں نے پہلے بھی بتایا تھا آج کی گندم اور آج سے پانچ ہزار سال پہلے کی گندم میں فرق ہے اس لئے کہ اب تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ ستاروں کی روشنی اجناس کی نشو ونما پر اثر ڈالتی ہے اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ پچھلے پانچ ہزار سال میں شاید ہزاروں نئے ستاروں کی روشنی اس زمین پر پہنچی۔پانچ ہزار سال پہلے جتنے ستاروں کی روشنی گندم کی پرورش کیا کرتی تھی اس سے کئی ہزار زیادہ ستارے آگئے آسمانوں پر، گندم اور دیگر غذاؤں کی پرورش کرنے کے لئے یعنی انسان کی جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی نشو ونما کے لئے کیونکہ غذا کا گہرا اثر انسانی ذہن ، اخلاق اور روحانیت پر پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح انسان کی غذائیں اس کے جسم پر اور اس کے ذہن پر اور اس کے اخلاق پر اور اس کی روحانیت پر اثر انداز ہوتی ہیں ان میں بھی نشوونما ہو کر اجناس کے بیج میں بھی ایک کمال پیدا ہوا ہے اور انسان کی قوتوں اور استعدادوں کو اس معنی میں بھی ترقی ملی ہے اسے خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوا ہے۔دنیا کے ہر حصے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل یہ فیض پایا۔قرآن کریم جیسی عظیم ہدایت ان کو ملی۔قرآن کریم کی محبت دلوں میں ڈالی گئی۔قرآن کریم کا عشق لوگوں کی روح کے اندر پیدا کیا گیا۔قرآن کریم کا اتنا پیار کہ