خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 141
خطبات ناصر جلد ہفتم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔۱۴۱ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے خطبہ جمعہ ۲۹ / جولائی ۱۹۷۷ء یہ ایک عاشق دل کی پکار ہے کیونکہ جو انسان عقل رکھتا ہے اور فراست رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے اور خدا سے پیار کا حصول چاہتا ہے اور لقا چاہتا ہے اور رضوان باری چاہتا ہے اسے معلوم ہے کہ خدا کو پانے کے سارے راستے قرآن میں بیان کر دیئے گئے ہیں اور ان پر چل کر ہی اللہ تعالیٰ کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔پس الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کی رو سے قرآن کریم کی تعلیم تین کمالات کا مجموعہ ہے۔اصول ایمانیہ کے لحاظ سے اَصلُهَا ثابت اور اس کے کمال کے لحاظ سے فَرْعُهَا فِي السَّمَاء اور اس کے شیریں ثمرات کی رو سے تُولّى اكلَهَا كُل حِينٍ بِإِذْنِ رَبَّهَا لیکن یہ تیسری چیز یعنی تویی أكلَهَا كُل حِينٍ بِاِذْنِ رَبّهَا میں انسان کی کوشش کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔آج کل آموں کا موسم ہے، اگر کہیں نہایت اعلیٰ درجہ کا یہ پھل پڑا ہو مثلاً کسی نے اپنے گھر کی میز پر رکھا ہو اور وہ اسے نہ کھائے تو اس کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔پس اگر چہ یہ پھل بہت اچھا ہوتا ہے اور خوشبودار ہوتا ہے اور بڑا میٹھا اور لذت والا ہوتا ہے۔ہر قسم کی بیماری سے پاک ہوتا ہے، انسان کی پوری نشو ونما کی خصوصیت رکھتا ہے لیکن یہ فائدہ تبھی دے سکتا ہے جب صاحب خانہ اس کو کھائے بھی۔اگر وہ نہ کھائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔پس توتي احلھا میں یہ بتایا گیا ہے کہ پھل تیار ہے اور تمہارے سامنے رکھا ہوا ہے مگر باذن ربها کی رو سے تم خدا سے دعا کرو کہ تمہیں اس کے صحیح استعمال کی توفیق بھی ملے اور اس پھل کا جو بہترین نتیجہ انسان کے حق میں نکل سکتا ہے یعنی لقاء باری ، وہ بھی تمہیں حاصل ہو جائے۔خدا کرے کہ ہم سب کے حق میں یہ باتیں پوری ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ ستمبر ۱۹۷۷ء صفحه ۲ تا ۵)