خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 118
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۱۸ خطبہ جمعہ ۱۰ / جون ۱۹۷۷ء اگر خدانخواستہ کسی نے خدائے رحمن سے منہ موڑ لیا تو پھر ہلاکت ہے، پھر شیطان اس کی روح پر قابض ہو جاتا ہے، پھر وہ شیطان کے تصرف میں آجاتا ہے، پھر وہ شیطان کی رعایا بن جاتا ہے۔بچپن میں کہانیاں سنا کرتے تھے کہ ایک شخص نے اپنی روح دنیوی دولتوں اور عزتوں کی خاطر شیطان کے پاس بیچ دی۔وہ تو ایک کہانی تھی مگر اس وقت بڑی سبق آموز کہانیاں ہوا کرتی تھیں۔پس جانے والوں کے لئے دعائیں کریں۔اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور رحمانیت کے جلوے ہمیں دکھائے اور ہمارے دل میں سوائے رحمٰن خدا کے اور کسی کا پیار نہ ہو یعنی اپنے نفس کا یا اس کے کسی پہلو کا کوئی تصور ہمارے دل میں نہ ہو صرف رحمن خدا کا جو بے عمل فیضان کرنے اور بلا استحقاق دینے والا ہے ہمارے دل میں پیار ہو۔جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے ہمارے سارے اعمال مل کر بھی کوئی عمل بنتا ہے؟ اس کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں اور اس کے جلال کے مقابلے میں اور اس کی کبریائی کے مقابلے میں ہمارے اعمال کوئی چیز نہیں اور اس کو ان کی ضرورت نہیں وہ غنی ہے۔پس خدا کرے کہ ہمیں یہ توفیق ملے کہ جانے والوں کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ہم ان کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور دنیا کی بھلائی کے لئے اور اپنے لئے یہ دعائیں کرنے والے ہوں کہ ہماری توجہ اور ہمارا منہ ہمیشہ خدائے رحمن کی طرف لگا ر ہے اور شیطان کا کبھی بھی ہم پر تسلط نہ ہوا اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے ہم اپنی اپنی استعداد کے مطابق حصہ لینے والے ہوں اور جب جائیں تو جو موجود ہوں ان کے لئے ہم نمونہ ہوں ان کے لئے عبرت کا مقام نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا کرے۔روزنامه الفضل ربو ۲۹۰ جون ۷ ۱۹۷ ء صفحه ۲ تا ۴ )