خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 115

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۱۵ خطبہ جمعہ ۱۰ / جون ۱۹۷۷ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو سارے جہان کے لئے اور قیامت تک کے لئے ایک نمونہ ہیں کہ کس طرح آپ رحمن خدا کی پرستش کرنے والے اور اپنی ساری توجہ اور سارے اعمال کو اس کی طرف پھیرنے والے تھے۔پھر آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اُمت محمدیہ میں کروڑوں خدا کے بندے پیدا ہوئے جنہوں نے خدائے رحمن کو پہچانا اور اس کی عظمت رحمانیت کے نتیجہ میں اپنی بے کسی کا احساس ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ہم اسی وقت کچھ بنتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ جو بغیر عمل اور استحقاق کے اپنی رحمت سے نواز نے والا ہے اپنی رحمت سے نواز دے۔اس لحاظ سے ہمارے زندہ رہنے والے بزرگ بھی اور ہمارے جانے والے بھائی بھی اور بہنیں بھی اور بزرگ مائیں اور پھوپھیاں بھی (جو بھی جسمانی اور روحانی رشتے ہم ان سے رکھتے ہیں) ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں وہ ہمارے لئے پرستش کی جگہ نہیں بنتے۔محترمہ پھوپھی جان حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے جب آپ کی عمر کم و بیش دس سال تھی اس وقت لکھا کہ میری یہ بچی بہت خوا میں دیکھتی ہے اور کثرت سے وہ خواہیں سچی نکلتی ہیں۔اب آپ خود سوچیں کہ یہ رحمانیت ہی کا جلوہ ہے نا۔ایک ایسی بچی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت ہے جس پر شاید ابھی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی اور روزے تو فرض ہی نہیں ہوئے حج کا سوال ہی نہیں اور زکوۃ کا بھی کوئی سوال نہیں اور خدا تعالیٰ کا اس سے سلوک یہ ہے کہ وہ کثرت سے اسے اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے اور رویائے صادقہ سے نوازتا ہے۔میں نے سوچا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ کثرت سے خوا میں سچی نکلتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ خوا ہیں، کثرت سے نہیں بلکہ قلت سے، ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو بچپنے کے خیالات کی وجہ سے آجاتی ہیں لیکن خدائے رحمن کا یہ جلوہ کس عبادت کے نتیجہ میں ہے، کس قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اپنا یہ جلوہ دکھایا کہ اس عمر میں کثرت سے سچی خوا ہیں دیکھنے والی بن گئیں اور پھر ساری عمر خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پیار اور محبت اور فضل اور رحمت کا سلوک کیا اور انہوں نے کبھی بھی ان چیزوں کو اپنی کسی خوبی کا نتیجہ نہیں سمجھا بلکہ خدا تعالیٰ کے ہر فضل کے بعد جو احساس