خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 100

خطبات ناصر جلد ہفتم 1++ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۷۷ء کی رضا کے سائے میں اور اس کی برکتوں کو حاصل کرنے والی بن جاتی ہے۔ہر انسان کی یہ خواہش ہونی چاہیے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کی یہ خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس قسم کا پیار کا سلوک اس کے ساتھ ہو۔ہر احمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متقی بننے کے لئے انتہائی کوشش کر رہا ہو اور شیطان کی آواز کو سننے والا نہ ہو۔اسلام نے جو نیکیاں ہمیں بتائی ہیں وہ آگے پھر دوحصوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ایک حقوق اللہ ہیں جن کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ایک حقوق العباد ہیں جن کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ کہا گیا ہے۔صالح کے معنی عربی لغت میں یہ بتائے گئے ہیں کہ الْقَائِمُ بِالْحُقُوقِ وَالْوَاجِبَاتِ جو بھی حقوق اور واجبات کسی انسان پر ہیں ان کو قائم کرنے والا یعنی وہ ان کی ادائیگی میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری توجہ کے ساتھ اور پوری ہمت کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ان حقوق میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ہیں اور ان حقوق میں بندوں کے حقوق بھی ہیں کہ بندوں کے ساتھ مروت سے پیش آؤ ، ان سے حسن سلوک کرو، ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔وغیرہ وغیرہ۔( صلاح کے معنی فساد سے الٹ ہیں ) فساد کو مٹانے کی کوشش کرو، فساد کی آگ کو اور زیادہ بھڑ کانے کی کوشش نہ کرو۔یہ متقی کا کام ہے، یہ ایک احمدی کا کام ہے اور جس وقت وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس وقت اس کو جو صلہ ملتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت ہے، بہت بڑا صلہ ہے۔اس کے مقابلے میں تو ہر دو جہان قربان کئے جاسکتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے جذبہ بھی دیا ہے اور عقل و فراست بھی دی ہے۔بنیادی جذ بہ ،جس کے پیچھے دوسرے سب جذبات چلتے ہیں ، خدا تعالیٰ کے ساتھ ذاتی محبت کا جذبہ ہے۔محبت بھی ایک جذبہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ساتھ ذاتی محبت کے جذبہ کے نیچے باقی سارے جذبات آجاتے ہیں ور جو شخص اپنے رب کریم سے ذاتی محبت رکھتا ہو اس کے اندر کوئی ایسا جذ بہ نہیں پایا جائے گا جو اس محبت کے مخالف ہو۔جس طرح خدا تعالیٰ رَبُّ العلمین ہے اور اس نے ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا وہ بندہ بھی ہر انسان کی خدمت کرنا اپنے لئے ضروری