خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد ہفتم 1+1 خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۷۷ ء سمجھتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو فراست بھی دی ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) نور فراست خدا سے خدا کا بندہ بھی حاصل کرتا ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ ایک مومن کے اعمال محض فراست کی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔نہیں بلکہ وہ نور وفراست اور جذ بہ ہر دو کے امتزاج پر قائم ہوتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے فراست، وہ جسے ہم نور فر است کہہ سکتے ہیں جو اللهُ نُورُ السمواتِ وَالْأَرْضِ سے انسان حاصل کرتا ہے اور جذبہ وہ جو اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت کے جذبہ کے ماتحت ہو، جب یہ دونوں مل جاتے ہیں تو عقل کام کرتی ہے۔بعض لوگ محض جذباتی فیصلے کرتے ہیں اور فساد پیدا کر دیتے ہیں اور بعض لوگ محض عقل کے روکھے سوکھے فیصلے کرتے ہیں اور بہتوں کے لئے تنگی اور دم گھٹنے کے سامان پیدا کر دیتے ہیں۔انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ کہاں سے آگیا ہے مجھ سے سانس بھی ٹھیک طرح نہیں لی جاتی۔اس قسم کے فیصلے ہو جاتے ہیں۔ہمیں اُمت مسلمہ کو اسلام میں یہ کہا گیا ہے کہ تم اپنے فیصلے نور فراست اور جذبہ کا جوحسین امتزاج ہے اس کی بنیاد پر کیا کرو کیونکہ نور فراست یعنی اللہ تعالیٰ کے نور اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا جو پیار کا تعلق ہے اس کی بنیاد پر جو فیصلہ ہوگا اس سے بہتر کوئی فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ایسے فیصلے ہمیں اپنی زندگیوں میں کرنے چاہئیں اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔ہم خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں۔قرآن کریم میں انتُمُ الْفُقَرَاء إِلَی اللہ کا اعلان کیا گیا ہے اور اللہ ہی الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ہے اس لئے یہ سمجھنا کہ اپنی کوشش سے ہم تقویٰ کے تقاضوں کو پورا کرلیں گے، اپنی کوشش سے ہم نور فراست کو حاصل کر لیں گے یا خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کے جذ بہ کو ایسا بھڑ کا ئیں گے کہ ہر خس و خاشاک کی طرح جل کر راکھ ہو جائے گا اور ختم ہو جائے گا اور ہمارے لئے کسی دُکھ اور کسی ضرر اور کسی عذاب کا موجب نہیں بنے گا یہ غلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ کے بغیر کوئی نیکی ممکن نہیں، کسی گناہ کو چھوڑ نا ممکن نہیں اور تقویٰ کا حصول سوائے (۱) اس احساس کے کہ ہم خدا کے محتاج ہیں خدا ہمارا محتاج نہیں اور (۲) دعائیں کر کے خدا تعالیٰ سے تو فیق پانے کے اور کسی طرح ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق زندگی کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو