خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 97 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 97

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۷۷ء لا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمُ بِالْمَن وَالأذى (البقرة :(۲۶۵) اگر صدقات بھی ہیں اور من اور اڈی بھی ہے تو پھر وہ نیکی نہیں رہیں گے اس لئے تقویٰ ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ ’ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے“ اگر کسی نیکی کی جڑ اور اس کی اصل اور اس کی بنیا د تقو می نہیں تو وہ نیکی نہیں ہے۔پس خدا تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں ہمیں سینکڑوں احکام دیئے ہیں کہ یہ نہ کرو یہ کر وحقیقی متقی وہ ہے جو ان تمام احکام کو تقویٰ کے اصول پر بجالا رہا ہو، نہ کرنے والے احکام کو بھی اور کرنے والے احکام کو بھی۔جو شخص ایسا نہیں وہ کامل متقی نہیں اور اگر کوئی شخص دو ایک باتیں ایسی کرنے والا ہو جو بظاہر نیکی ہوں اور باقی نہیں تو وہ متقی نہیں کہلائے گا۔مثلاً ایک وقت میں بعض علاقے نو آبادیات کہلاتے تھے غیر ممالک نے ان پر قبضہ کیا ہوا تھا اور ظاہر یہ کر رہے تھے کہ ہم ان کی بڑی خیر خواہی کرتے ہیں اور ان کی ترقیات کے منصوبے بناتے ہیں۔انگریزوں کی بھی نو آبادیات تھیں، فرانسیسیوں کی بھی ، ہالینڈ کی بھی ، جرمنی کی بھی اور بیلجیئم کی بھی تھیں۔پھر ان کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں کوئی پیچھے چلے گئے اور کوئی آگے آگئے۔میں مثال کے طور پر صرف ایک خُلق کو لیتا ہوں جو بڑا بنیادی خُلق ہے۔وہ بنیادی خلق یہ ہے کہ دیانت کے اصول کو اپنا نا چاہیے۔بددیانتی کے نتیجہ میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔نہ خدا ملتا ہے نہ دنیا ملتی ہے۔دنیا کی کوئی قوم جو بددیانت بن جائے کوئی قوم جو دیانت کے اعلیٰ معیار پر اپنے آپ کو نہ پہنچائے وہ ترقی کر ہی نہیں سکتی۔تنزل کر سکتی ہے ترقی نہیں کر سکتی۔اب یہ جو غیر ممالک کے حاکم تھے جہاں تک ان کے اپنے ملک کا تعلق ہوتا تھا وہ انتہائی طور پر دیانتدار تھے۔کوئی جرمن اپنے ملک سے بدیانتی نہیں کر رہ ہوتا کوئی ہالینڈ کا باشندہ اپنے ملک سے بددیانتی نہیں کر رہا ہوتا۔کو ئی میبینیم کا باشندہ اپنے ملک سے بددیانتی نہیں کر رہا ہوتا لیکن ان کے ماتحت جو نو آبادیات تھیں وہاں کے ملکوں کے ساتھ وہ انتہائی طور پر بددیانت تھے۔چنانچہ جب میں ۱۹۷۰ء میں باہر گیا تو پہلا ملک جہاں میں گیاوہ نائیجیریا تھا۔میں بڑا حیران ہوا کہ قدرتی دولت کے لحاظ سے اتنا امیر ملک ہے لیکن عوام غریب ہیں۔