خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 96
خطبات ناصر جلد ہفتم ۹۶ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۷۷ء یہ وار کہ وہ انسان کو گناہ پر ، بدی پر ، دوسروں کو دکھ پہنچانے پر جو اکساتا ہے خدا تعالیٰ مدد کو آئے اور ڈھال بنے اور شیطان کے اس قسم کے حملوں میں شیطان نا کام ہو اور خدا تعالیٰ کی ڈھال اس کے نیک بندے کو شیطانی حملوں سے محفوظ کر دے اور پھر دوسری طرف سے شیطان یہ حملہ کرتا ہے کہ انسان نیکیاں نہ کرے یا نیکیوں میں سستی دکھائے یعنی جتنی نیکی کر سکتا ہے اتنی نہ کرے اور تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ الله کے ماتحت اچھے اخلاق اس میں پیدا نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اس پر نہ چڑھے ہر انسان کے شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے۔چنانچہ اس محاذ پر خدا تعالیٰ کو ڈھال بنانے کا یہ مطلب ہے کہ اے خدا! تیری راہ میں قدم بڑھانے کے راستے میں شیطان جو روک ڈالے، نیکیوں سے روکے، حُسنِ سلوک سے رو کے انسان تیری رحمت اور رضا کے حصول کے لئے تیرے ساتھ صدق وصفا کا جو تعلق پیدا کرتا ہے اس کے رستے میں روک بنے ، تیرے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم دیا گیا ہے اس کے رستے میں وہ روک بنے غرضیکہ ہر قسم کی نیکیوں کی راہوں میں جو شیطان روک بنے ہمیں اس کے اس قسم کے حملوں سے بچا اور خود ہمارے لئے ڈھال بن جا۔تقویٰ کے یہ دونوں معنی ہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام نے جو احکام اوامر ونواہی دیئے ہیں ان میں سے ہر حکم پر جو انسان نے عمل کرنا ہے اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔تمام بدیوں سے چھٹکارا اس وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب تقویٰ کی راہوں کو اختیار کیا جائے اور نیکیاں اسی وقت کی جاسکتی ہیں جب تقویٰ انسان کے روحانی وجود کی زینت بنے۔ہر حکم کے ساتھ تقویٰ ضروری ہے۔کوئی حکم جو برائی سے رو کنے والا ہو یا اچھائی پر ابھارنے والا ہو وہ انسان بجا نہیں لاسکتا جب تک وہ تقویٰ کی راہ کو اختیار نہ کرے۔اسی واسطے جب انسان بظاہر نیکی کر رہا ہو اور بظاہر تقویٰ کا مظاہرہ کر رہا ہو اس وقت بھی اگر حقیقی تقویٰ نہیں ہے تو وہ نیکی نہیں رہتی مثلاً صدقہ ہے، صدقات دینا نیکی کا کام ہے ( صدقہ کے مختلف معانی ہیں میں اس وقت ان معانی میں نہیں جاؤں گا ) بظاہر یہ نیک کام ہے لیکن اگر اس کے ساتھ تقویٰ نہیں، اگر صدقات بجالانے والا متقی نہیں ، اگر وہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا اور تقویٰ کی شرائط کو پورا نہیں کرتا تو صدقات نیکی نہیں رہتے۔