خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page viii
VI کبھی آپ نے سوچا کہ خلیفہ بن جائیں گے میں نے کہا:۔"No sane person can aspire to this۔" کوئی عقلمند آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اتی بڑی ذمہ داری ہے کوئی سوچے گا کیسے۔“ - ۲۵/اگست ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔” میری خلافت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرما یا لِدَاود انا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ اور یہ بتانے کے لئے کہ میں تیرے ساتھ ہوں خدا تعالی بڑا پیار کرنے والا ہے اس کے پیار کو حاصل کریں۔خلافت کے بڑے تھوڑے عرصہ کے بعد۔۔۔دفتر کے اوپر کمرے میں سنتوں کی نیت جب باندھی تو میرے سامنے خانہ کعبہ آ گیا یعنی کشفی حالت میں نہیں جس میں آنکھیں بند ہو جاتی ہیں بلکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا یعنی نظارہ یہ دکھایا گیا کہ میرا رخ ایک Angle بائیں طرف اور میں نے سیدھا کر لیا منہ، خانہ کعبہ کی طرف اور نظارہ بند ہو گیا۔میں نے سوچا کہ یہ تو نہیں خدا کا منشا کہ میں ہر دفعہ آ کر قبلہ ٹھیک کروایا کروں گا۔مطلب یہ ہے کہ میں تمہارا منہ جس مقصد کے لئے تمہیں کھڑا کیا ہے اس سے ادھر اُدھر نہیں ہونے دوں گا۔پس میرا یہ کام ہے کہ میں تمہیں شریعت سے استہزا نہ کرنے دوں۔تمہاری مرضی ہے کہ جماعت مبائعین میں رہو یا چھوڑ کر چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں میں کسی کی مُردہ کیڑے کی حیثیت بھی نہیں سمجھتا۔خدا تعالیٰ خود میری راہنمائی کرتا ہے میں نے تم سے دین نہیں سیکھنا تم نے مجھ سے دین سیکھنا ہے۔ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی خلافت قائم رہے گی اور کوئی خلیفہ بھی ایسا نہیں آئے گا جو تمہیں شریعتِ اسلامیہ سے استہزا کرنے کی اجازت دے۔“ -۹- ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے فضل عمر فاؤنڈیشن اور نصرت جہاں سکیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔د فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کی جو معیاد تھی اس میں مالی قربانی دے کر حصہ لینے کی وہ غالباً تین سال کی تھی۔اس کے بعد وہ ختم ہوگئی لیکن جو اموال جمع ہوئے تھے اور وہ جیسا کہ وہ مشروط کئے گئے تھے پہلے دن سے اُن کو کام پر لگایا جائے گا اور