خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 61

خطبات ناصر جلد ہفتم บ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء دیکھنا تمہیں باہر اندھیرا نہ ہو روشنی روشنی میں واپس مشن ہاؤس آجا ناور نہ کسی گلی کے موڑ پر تم پر حملہ بھی ہوسکتا ہے۔گو یا اتنی بے اطمینانی کی زندگی وہ لوگ گذار رہے ہیں۔عورتیں باہر نکلیں تو ان کی عزبات خطرے میں ہے۔اتنی کثرت سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں کہ اگر ان کی تعداد کو ہمارے ملک شائع کریں تو آپ لوگ حیران ہو جائیں لیکن ہمارے ملک میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ جب تک ہماری زندگی اس قسم کی نہیں ہوگی جیسی نیو یارک کی ہے اس وقت تک ہم ترقی یافتہ نہیں سمجھے جائیں گے، جب تک ہم اتنی چوریاں نہیں کرتے ، جب تک ہم اتنے ڈا کے نہیں مارتے ، جب تک ہم اتنی عرب میں نہیں لوٹتے ، جب تک ہم اتنی ڈکیتیاں نہیں کرتے اس وقت تک ہم مہذب نہیں سمجھے جائیں گے۔یعنی مَعِيشَةً ضَنكًا بھی ہے اور اس کے بعض دوسرے پہلوؤں کو دیکھ کر غیر ترقی یافتہ قومیں اس کی طرف للچائی ہوئی نظریں بھی ڈالتی ہیں اور یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اس قسم کے حالات ہمارے ہاں بھی پیدا ہو جائیں اور نام دیا جاتا ہے اس چیز کو آزادی کا۔انسان کو غیر محدود آزادی تو نہیں دی گئی۔مثلاً انسان کا دل ہے جو خدا تعالیٰ نے اس کی دھڑ کن وضع بنائی ہے اس کے مطابق دھڑکتا ہے اور ایک دن خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت خاموش ہوجاتا ہے۔کسی کا دل اس میں آزاد نہیں ہے کہ کبھی اس کا ایک والو (Valve) بند ہو اور کھلتا رہے لگا تار اور کبھی دوسرا۔ایک نظام خدا تعالیٰ کی قدرت نے قائم کیا ہے دل کے اندر اور اس کی شریانوں کے اندر، اس کے اعصاب کے اندر، اس کے پٹھوں کے اندر، اس کے خون کے دوران میں اور اس نظام کے ماتحت وہ کام کر رہا ہے۔اس میں انسان آزاد نہیں ہے۔انسان کو ایک محدود دائرے کے اندر اس لئے آزاد بنایا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو ہر دوسری مخلوق سے زیادہ حاصل کرنے والا ہو۔اگر آزادی نہ ہوتی ، اگر وہ اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں ایثار اور قربانی پیش نہ کر رہا ہوتا، اگر وہ علی وجہ البصیرت خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کا تعلق قائم کر کے اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنے کے بعد تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کا مظاہرہ نہ کر رہا ہوتا کہ اس کی صفات کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارے تو ثواب کیسا۔ثواب تو صرف انسان کے لئے مقدر ہے جیسا کہ نہ صرف اسلام میں بلکہ جب سے سلسلہ انبیاء شروع ہوا انسان کو یہی بتایا گیا