خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 50
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۷۷ء کے لئے اس دنیا میں نہیں کرتی ان کے لئے اُس دنیا میں اصلاح کا نتیجہ پیدا کرتی ہے اس واسطے وہ رحمت ہی کا ایک حصہ ہے۔جس طرح بھیڑیں چرانے والا اس بھیڑ کو جو ادھر اُدھر ہو جاتی ہے ڈانٹ کی آواز نکال کر یا اپنی سوٹی دکھا کر اس راستے پر لے آتا ہے جس پر وہ اپنے گلے کو چرانا چاہتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ کے کامل مظہر تھے۔ہر نبی اور مامور اور وہ نیک بندے جن سے اللہ تعالیٰ کام لیتا ہے وہ اس کی رحمت کے جلوے ہی ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں لیکن رحمت رحمت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک رحمت وہ ہے جو صرف یہود کے قبائل کے لئے تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہوئی۔ایک رحمت وہ ہے جو دوسرے انبیاء کی شکل میں ظاہر ہوئی یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک محدود جلوہ انہوں نے جذب کیا اور وہ افریقہ میں بسنے والے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنے اور انہوں نے ان کی خدمت کی اور ان کی خیر خواہی میں اپنی زندگی کو خرچ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو اس علاقے کی خیر خواہی کے لئے تیار کی گئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ہیں۔کسی ایک علاقے یا کسی ایک زمانے سے آپ کا تعلق نہیں۔آپ کامل مظہر ہیں اس خدا کے جس کی رحمت کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔آپ کی زندگی کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ عجیب عظمت والا یہ محسن اور صاحب رحمت انسان ہے کہ انسان تو انسان کتوں اور بلیوں کے لئے بھی رحمت کی تعلیم دینے والا ہے جن پرندوں کو انسان کی خدمت کے لئے اس غرض سے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ ذبح کئے جائیں یا شکار کئے جائیں اور انسان انہیں کھائے ان کے متعلق بھی رحمت کی تعلیم دی کہ دکھ دے کر ذبح نہیں کرنا اور شکار ضرورت سے زیادہ نہیں کرنا۔دنیا میں ایسے شکار کرنے والے بھی پیدا ہوئے ہیں کہ اگر دس پرندوں کی ضرورت ہے تو وہ سینکڑوں بلکہ بعض دفعہ ہزاروں پرندے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ ضرورت سے زیادہ نہیں مارنے کیونکہ تمہیں کھانے کی اجازت دی گئی ہے تمہیں تباہ کرنے اور ہلاک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔خدا تعالیٰ نے تمہیں ایسی کوئی اجازت نہیں دی تم اس