خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 43
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳ خطبہ جمعہ ۱۱ / مارچ ۱۹۷۷ء شہری خاندان اپنی خاندانی کثرت کے نتیجہ میں کمزور خاندانوں پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ آخر اولا د تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ میرا کثرت بخشنایہ نہیں ظاہر کرتا کہ تم نے نیکیاں کیں اور میں نے انعام دیا بلکہ یہ بتاتا ہے کہ میں نے تمہارا امتحان لینا چاہا اگر تم امتحان میں ناکام ہو گے تو میرے فضلوں اور رحمتوں کو حاصل کرنے والے نہیں ہو گے بلکہ میرے غضب اور قہر کی تجلیات تم پر ظاہر ہوں گی لیکن اگر خَشْيَةُ اللہ رکھو گے اور خدا تعالیٰ کے نشانات پر ایمان لاؤ گے تو حقیقی نیکی کرنے والے بن جاؤ گے۔آیات کا لفظ قرآن کریم میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے اور اپنے اندر بہت وسیع معانی رکھتا ہے۔میں اس وسعت میں تو اس وقت نہیں جانا چاہتا کیونکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں لمبا عرصہ مجھے انفیکشن رہی ہے اور اس کے علاج کے لئے ڈاکٹر بڑی تیز دوائیں دیتے ہیں۔اس بیماری کی وجہ سے میں اب بھی کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔چونکہ دوائی چھوڑے ہوئے کچھ دن ہو گئے ہیں اور جسم کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہو رہی ہے اس لئے میں یہ خطرہ بھی محسوس کر رہا ہوں کہ انفیکشن پھر زیادہ نہ ہو گئی ہو۔میں بھی دعا کرتا ہوں آپ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے صحت سے رکھے۔اس لئے میں اس وقت اس مضمون کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔میں اپنے بھائیوں کو اس طرف توجہ دلا نا چاہتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت پر اتنا فضل اور اتنارحم کیا ہے ان ہر دو پہلوؤں کے لحاظ سے بھی جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے یعنی مال و دولت اور اولاد کی کثرت جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہا ما بتا یا گیا تھا کہ آپ کے ماننے والوں کے اموال میں اور ان کے نفوس میں کثرت بخشی جائے گی وہ پورا ہوا۔چنانچہ اس وقت آپ کا ایک ایک صحابی بظاہر کمزور، دنیا کا دھتکارا ہوا تھا اور ان میں کوئی جسمانی طاقت نہیں تھی مگر پھر خدا تعالیٰ نے ایسی برکت ڈالی کہ ایسے بیسیوں سینکڑوں صحابہ ہیں جن میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جسمانی طاقتوں کے خرچ کرنے کی توفیق ملی جس کے نتیجہ میں ہر ایک اپنے پیچھے سینکڑوں بچے بچیاں ، پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا یعنی ان کے نفوس میں بھی بڑی کثرت سے برکت بخشی گئی۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے ہمارے بعض بزرگ ایسے بھی